جوشِ جنوں میں کیسے عجب مشغلے رہے
در پیش ہر چٹان سے سر پھوڑتے رہے
ہستی کے کار زار میں بچنا محال تھا
وہ بچ گئے جو اپنی انا توڑتے رہے
یہ جان کر کہ کھیل تماشہ ہے زندگی
یہ رو دیئے، وہ ہنس پڑے، ہم کھیلتے رہے
سب جیتنے کے شوق میں لڑتے رہے یہاں
بازی ہمیں عزیز تھی ہم ہارتے رہے
مطلب پرست آپ کے سر پر سوار تھے
ہم دل سے چاہتے تھے، کھڑے دیکھتے رہے

0
2