| وقت کے ہاتھ میں تھا چراغِ سفر، ہم اکیلے ہی منزل کو جاتے رہے
|
| خواب جتنے بھی ٹوٹے تھے راہوں میں وہ، اپنی پلکوں پہ ان کو سجاتے رہے
|
| ہر قدم پر ہمیں تھا یقینِ وفا، روشنی کی طلب نے نہ بجھنے دیا
|
| دشت کی تیرگی جب ہمیں روکتی، ہم امیدوں کی شمعیں جلاتے رہے
|
| اک طرف زندگی میں تھی اتنی تپش ، اک طرف خواب آنکھوں میں سایہ فگن
|
| دل کی دھڑکن میں جتنے چھپے راز تھے، خود تو بجھتے رہے، دل جلاتے رہے
|
|
|