Circle Image

M Ahsan Baig

@ahsanbaig77

اِس راہِ بے نشاں پہ میں تنہا نہیں ابھی
رستے میں ہمسفر مرا مہتاب بھی تو ہے
جلتے ہیں دشتِ جاں میں کئی آگ کے گلاب
ویرانیوں کے بیچ یہ شاداب بھی تو ہے
اُجڑے ہوئے خیال میں خوابوں کی ایک لَہر
یادوں کے گنبدوں میں کہیں باب بھی تو ہے

0
71
یہ لہو، یہ دھواں، ظلم کی یہ فضا
جل رہا ہے یہاں پھر سے اہلِ غزہ
کس کو آواز دیں، کوئی سُنتا نہیں
دل میں غم، آنکھ نم، لب پہ بس یہ دعا
ہر صلیبِ ستم توڑ دے اے مجیب
عدلِ رب کی گھڑی آرہی ہے قریب

0
31
بجھ گئے سارے دیے، پھر سے جلائیں کیسے
اس اندھیرے میں کوئی راہ دکھائیں کیسے
زندگی خود ہی ستمگر ہے تو شکوہ کیسا
اب کسی اور ستمگر کو ستائیں کیسے
لب پہ آئی ہو جو فریاد، وہ کہنے بھی نہ دیں
ایسے ماحول میں جذبات چھپائیں کیسے

28
جو نہ پہنچا سکیں ان کے در پر، ایسے قدموں کا میں کیا کروں گا؟
جو نہ لے جائیں طیبہ کی جانب، ایسی راہوں کا میں کیا کروں گا؟
جس میں خوشبو نہ ہو ان کے در کی، جس میں رحمت کا جھونکا نہ آئے
ایسی صبحوں کا کیا ذکر کرنا، ایسی شاموں کا میں کیا کروں گا؟
جو مدینے کی گلیوں میں جا کر، اپنے اشکوں کو بہنے نہ دوں میں
ایسی آنکھوں میں کیا نور ہوگا، ایسی نظروں کا میں کیا کروں گا؟

0
42
مثلِ ساغر جو تری آنکھ بھری ٹھیک نہیں
بے سبب دل کی بھی پوشیدہ نمی ٹھیک نہیں
تیرے آنے سے تھا سارا ہی چمن مہکا مہکا
پر یوں نظروں سے تری خار کشی ٹھیک نہیں
تیرے الفاظ میں جو درد ہے وہ کھل کے بتا
یوں اکیلے میں بھی شیریں سُخنی ٹھیک نہیں

0
30
وقت کے ہاتھ میں تھا چراغِ سفر، ہم اکیلے ہی منزل کو جاتے رہے
خواب جتنے بھی ٹوٹے تھے راہوں میں وہ، اپنی پلکوں پہ ان کو سجاتے رہے
ہر قدم پر ہمیں تھا یقینِ وفا، روشنی کی طلب نے نہ بجھنے دیا
دشت کی تیرگی جب ہمیں روکتی، ہم امیدوں کی شمعیں جلاتے رہے
اک طرف زندگی میں تھی اتنی تپش ، اک طرف خواب آنکھوں میں سایہ فگن
دل کی دھڑکن میں جتنے چھپے راز تھے، خود تو بجھتے رہے، دل جلاتے رہے

0
29
درد کو اشک چھپا جائیں تو حیرت کیسی
اب اُجالوں کی حسیں رات سے الفت کیسی
سب بُھلا بیٹھے ہیں، اپنوں نے بھی وعدے توڑے
اب بَھلا اپنے ہی سائے کی ضرورت کیسی
ہم نے غیروں سے بھی باندھی تھی تمنّا دل کی
اب جو ٹوٹا ہے یہ بندھن تو عداوت کیسی

0
39
تیرگی میں اُجالے بسانے لگے
ہم وفا کے دیے پھر جلانے لگے
ہم نے اشکوں میں رکھے محبت کے پھول
وہ گلابوں کو کانٹے بنانے لگے
ایک ہم ہیں کہ وعدوں پہ قائم رہے
ایک وہ ہیں جو قسمیں بھلانے لگے

0
55
ہم تو خوابوں کی دنیا بساتے رہے
اور حقیقت سے نظریں چراتے رہے
دشمنوں سے بھی ہم نے نبھائی وفا
دوست ہی بارہا آزماتے رہے
لب ہلے بھی تو ہم کچھ نہیں کہہ سکے
سر جھکا کے بس آنسو بہاتے رہے

0
53
ہم سفر کوئی ہوتا جو اپنا کبھی
میرے دل کا مقدّر سنبھلتا کبھی
وہ جو بچھڑے تو ہر پل اداسی رہی
یاد کا غم دلوں میں مچلتا کبھی
خواب ٹوٹے تو آنکھوں سے ساگر بہے
کاش اشکوں کا دریا نہ بہتا کبھی

0
42
من کی سونی چوکھٹ پر جب دل نے اُس کی گونج سنی
بیتی رتوں کی سرگم سے پھر کِھل اٹھی ہے دل کی کلی
کتنے پرندے لوٹ گئے ہیں شام کے نیلے سائے میں
کچھ تو اُجالوں سے روٹھے کچھ چاندنی لے کر بھاگ گئی
مہکی مہکی یادیں آئیں دل کے ویراں آنگن میں
دور کہیں کوئی ساز بجا اور گہرے درد کی ٹھیس اٹھی

7
178
مرے دل میں بسی ہے آج بھی وہ شامِ غم
ٹوٹ کر بہہ گیا آنکھوں سے تبھی جامِ غم
حرفِ تسکین ہوا میں ہی بکھر کر رہ گیا
اب صبا دے کے مجھے جاتی ہے پیغامِ غم
کچھ عجب خواب تھے دل نے جو سنبھالے ہوئے تھے
وقت نے دل پہ لکھا ہے وہی انجامِ غم

0
4
105
اک ہتھیلی پہ سجا لی ہو دعا کی دنیا
دوسرے ہاتھ میں تقدیر رکھی ہو جیسے

0
36
یاد پلکوں پہ ستاروں سی سجی ہو جیسے
دھندلی آنکھوں میں تصویر تری ہو جیسے
خامشی شام کی سانسوں میں اُتر آئی ہے
چاندنی رات کے پہلو میں دبی ہو جیسے
اک ہتھیلی پہ سجا لی ہو دعا کی دنیا
دوسرے ہاتھ میں تقدیر رکھی ہو جیسے

0
68
وفا جب دل میں اترے تو عجب تاثیر ہوتی ہے
کسی کی یاد میں ہر سانس بھی دلگیر ہوتی ہے
کبھی جب عشق کی وادی میں اک مسرور پل آئے
تو بن کر روشنی ہر خواب کی تعبیر ہوتی ہے
قدم رکھتا ہے جو اس راہ میں صدق و وفا کے ساتھ
اسی کے نام سے ہر داستاں تحریر ہوتی ہے

0
47
رگِ جاں میں جو رواں ہے، بخدا! تُو ہی ہے
میرے دل کی تو فقط ایک دعا تُو ہی ہے
گرچہ میں بندۂ عاصی بھی ہوں، ناکارہ بھی ہوں
میں نے ہر حال میں محسوس کیا، تُو ہی ہے
ختم کر ڈالے ہیں سب حیلے بہانے اپنے
اب مرے دل کی حقیقت میں صدا تُو ہی ہے

0
45
مثلِ شبنم جو تری آنکھ بھری اچھی نہیں
دل میں پوشیدہ تری کم _سَخَنِی اچھی نہیں
تیرے الفاظ میں گر درد چھپا ہے تو کہہ
یوں اکیلے میں بھی شِیرِیں _سُخَنی اچھی نہیں
شعلہ بننے کی تمنا ہے مگر سوچ ذرا
حالتِ خوف میں اَفْروخْتَگی اچھی نہیں

0
74
یہ کیسا سفر ہے، خبر تک نہیں ہے
کہ دنیا میں کوئی اثر تک نہیں ہے
صدا دے رہا ہوں میں بے صوت رہ کر
کہ آنکھوں میں اب وہ شرر تک نہیں ہے
چراغوں کی لَو تو جلا کے گئے ہیں
مگر روشنی کا ثمر تک نہیں ہے

0
34
ترے فراق میں دن رات کا عذاب ہوا
کہ ہر نَفَس میں نیا درد بے حساب ہوا
بچھڑ کے تجھ سے غمِ دل کا معجزہ جو ملا
بجھا چراغ تھا میں اور آفتاب ہوا
یہ کس مقام پہ لے آئی میری تنہائی
جو موتی آنکھ میں تھا, بہہ کے وہ بھی آب ہوا

0
49
میں نے کہا تاروں سے یہ قصہ ہے پُرانا
کھویا ہے مرے دل کا وہ اک خواب سہانا
پوچھا جو پہاڑوں سے تمہاری یہ بلندی
ہے میری نظر میں کوئی مقصد کا خزانہ
دریا کی روانی میں چھپا ہے کوئی نغمہ
ہے دل میں چھپا میرا وہی درد پرانا

0
36
چلو ہر راستے پر ایسے پتھر خود دعائیں دیں
قدم رکھنا تو کانٹے بھی محبت کی صدائیں دیں
وہ چہرہ روشنی دے جو اندھیروں میں جلے یکسر
چراغِ شوق دیکھیں تو اندھیرے بھی شعائیں دیں
نگاہیں خواب کا منظر بنائیں اُس حقیقت کو
دعا دے کر ستارے ہم کو الفت کی ندائیں دیں

0
42
دھرتی میں ہر طرف ہیں خزانے چھپے ہوئے
ہر دل میں بھی ہیں کتنے فسانے چھپے ہوئے
دکھ سہہ کے بھی جو چپ ہیں، وہ بزدل نہیں مگر
رکھتے ہیں دل میں راز پرانے چھپے ہوئے
دیکھو کہاں ہے دل کی وہ جنت، جہاں کبھی
خوابوں کے درمیاں تھے زمانے چھپے ہوئے

0
35
“خدا جب حسن دیتا ہے، نزاکت آ ہی جاتی ہے”
خدا جب جوڑتا ہے دل، محبت آ ہی جاتی ہے
کسی کے لمس کی خوشبو سے دل بھرنے لگے جب جب
یقیناً دل کے آئینے میں الفت آ ہی جاتی ہے
محبت اک سمندر ہے، مگر یہ کس نے سوچا تھا؟
جہاں پر ہو سفر دشوار، وحشت آ ہی جاتی ہے

0
67
خوابوں کی طرح دل میں افسانے ہزاروں ہیں
اب زخم ہیں اور دل کے ویرانے ہزاروں ہیں
جو خواب دکھائے تھے اک پل میں ہی بکھرے ہیں
اب آنکھوں میں اشکوں کے پیمانے ہزاروں ہیں
اے دل یہ بتا کیسے رہتا ہے سکوں میں تو
ہر سانس میں دھڑکن کے افسانے ہزاروں ہیں

0
56
ہم اہلِ وفا کی قسمت میں پھر بہتے لہو کا دریا ہے
جو ظلم کے رستے آیا تھا، اسے خاک میں آخر ملنا ہے
قدموں کی صدا میں چھپتی ہے تاریخ کی ہر اک سرگوشی
یہ رستہ شہادت کا دل نے اب سوچ سمجھ کے چاہا ہے
جو شوقِ وفا دل میں اٹھے، وہ خوف کبھی لاتا ہی نہیں
صدیوں سے چھائی راتوں میں اب صبح کا سورج چمکا ہے

0
43
کسے خبر تھی کہ یہ ہوگا زندگی کا حال
ہر ایک لمحہ غموں کا ہے اک نیا ہی ملال
ستم جو کرتے رہے، کیوں سمجھتے حالِ دل
کہ جن کے دل ہی ہیں پتھر، وہ کیا رکھیں گے خیال
دلوں میں جب ہو سکوں اور فکرِ غم بھی نہ ہو
تبھی تو دل میں آئے کوئی انوکھا سوال

0
40
کہاں گیا وہ سکوں جو دلوں میں بستا تھا
یہ اب جو درد ہے دل میں، یہ بھی چھپا سا تھا
وہ شخص، جس کی انا بھی خودی پہ غالب تھی
وہ کون تھا، جو سجدے میں بھی خدا سا تھا
عجب تھا یہ کہ مسافر بھی، رہگزر بھی تھا
خود اپنے آپ میں گویا کوئی سزا سا تھا

0
27
رستے پہ جو چلے تھے، وہ سنسان ہو گئے
تم ساتھ جو نہیں تو یہ ویران ہو گئے
آنکھوں میں تیرتی ہیں تمہاری ہی صورتیں
خواہش کے سب دیے تبھی بےجان ہو گئے
آغازِ زندگی میں ترا ساتھ، ساتھ تھا
اب آخری پہر میں تو مہمان ہو گئے

0
45
عزم و ہمت کی فضا دل میں بسا رکھی ہے جو
خون میں اب آگئی ہے، جوشِ کامل کی یہ رو
حق پہ مرنے کی قسم، یہ عزم ہم نے کر لیا
نورِ حق کی چاشنی سے دل کو اپنے بھر لیا
دل میں ایماں کی ہے طاقت، جسم میں ہے روشنی
ظلمتوں کو ہم مٹائیں، اپنی ہے نعرہ زنی

0
33
تڑپ دل کی کبھی رکتی نہیں ہے
یہ حالت ہے کہ گمراہی میں گم ہوں
محبت کی حقیقت کون سمجھے
چھپا ہے راز دل کا دل کے اندر
محبت وہ ہے جس میں ہو فنا کا اک تقاضا
کہ پھر خود میں ہے مل جاتی حقیقت کی علامت

0
39
تڑپ دل کی سنبھلتی ہی نہیں ہے، کیا بتاؤں
یہ حالت ہے کہ گمراہی میں گم ہوں، کیا بتاؤں
محبت کی حقیقت کو سمجھنا، اک تماشا
یہ رازِ دل چھپا ہے دل کے اندر، کیا بتاؤں
جہاں پر دل کرے سجدہ، وہی ہے اصل معراج
مگر دل جب ہے چھوتا عرش کو تو ، کیا بتاؤں

0
45
ہر اک قدم پہ نئی روشنی جو پائی ہے
یہ سب دعا ہے نبی ﷺ کی جو رنگ لائی ہے
یہ دل کی رونقیں، روحانی کیف کیا کہیے!
کہ جب سے میں نے محمد ﷺ سے لو لگائی ہے
نہیں ہے خوف بھٹکنے کا زندگی میں کوئی
کہ دل میں عشقِ محمد ﷺ کی لو جلائی ہے

37
چمن میں ایک خزاں کا اثر کچھ ایسا تھا
کہ گُل کھلا تھا جو، پل میں وہ مرجھا بھی گیا تھا
یہی تھا خواب کہ تم سے کبھی گلہ بھی نہ ہو
مگر یہ دل بھی حقیقت سے کچھ تھکا سا تھا
کہیں پہ روشنیوں کا سراغ مل نہ سکا
چراغِ شام بھی جیسے بجھا بجھا سا تھا

0
63
وہ مالک ہے سب کا، اسی سے جہاں ہیں
جو سب کو عطا کر رہا ہے یہ جیون
نہ کوئی ہے اس کا شریک اس جہاں میں
کہ سب کچھ ہے اس کا، وہی ابتدا ہے
وہ خالق ہے ہر ذرے کا اس جہاں میں
وہی دن کو لاتا، وہی رات کرتا

38
وہ رہبر ہیں سب کے، محمدؐ ہمارے
ؤہ رحمت ہیں سب پر، وہی مصطفیٰ ہیں
جو ظلمت کو دنیا سے دوری پہ لائے
وہ لائے جہاں میں کرم کی ضیا ہیں
ہے نورِ محمدؐ سے روشن زمانہ
کہ ان ہی سے زندہ دلوں کی وفا ہیں

33
زمانے کی زنجیر توڑوں گا میں
ستم کے ہر اک داغ دھو دوں گا میں
نہ ظلمت کا سایہ رہے گا یہاں
کہ ظلمت کا نقشہ مٹاؤں گا میں
جو زنداں میں ہیں، ان کو آزادی دوں
کہ اپنے ہی وعدے نبھاؤں گا میں

0
3
67
نہیں ہے کوئی خوف، راہوں میں ہوں میں
مسافت کے سارے گواہوں میں ہوں میں
قدم بڑھ رہیں ہیں مرے رہگزر پر
یہی میری عظمت، وفاؤں میں ہوں میں
یہ کیسے مجھے روکے گا اب زمانہ
زمانے کی ساری نگاہوں میں ہوں میں

5
71
چراغوں کی صورت بکھرتا ہوں میں
ستاروں کی جانب لپکتا ہوں میں
زمانے کی ٹھوکر سے ہارا نہیں
کہ خود اپنے وعدے پہ جیتا ہوں میں
اندھیروں سے لڑتا ہوا ایک دن
امیدوں کے ساحل پہ رکتا ہوں میں

50
قفس میں ہیں اور آسماں میں بھی ہیں وہ
غزل میں ہیں اور داستاں میں بھی ہیں وہ
زمانے کے میدان میں جنگ کرتے
چراغوں کی مانند جاں میں بھی ہیں وہ
نظر سب کی حیرت سے ہے دیکھتی جو
کہ حق کے یہ روشن نشاں میں بھی ہیں وہ

0
1
48
غبارِ دل سے اب پردہ ہٹایا جا نہیں سکتا
یہ دل کا راز ایسا ہے، چھپایا جا نہیں سکتا
جفا کے خون میں ڈوبا تھا ہر اک خوابِ دل اپنا
خدا کے واسطے بھی سب بتایا جا نہیں سکتا
یہ ہے اشکوں کا افسانہ، رہے دل میں ہی پوشیدہ
یہ رازِ دل ہے، اس کو یوں دکھایا جا نہیں سکتا

0
57
جو ہمیشہ فقط اپنی باتیں کریں
خود ہی آئین اپنے لیے توڑ دیں
خود ہی اپنے لیے ان کا ہر فیصلہ
صرف اپنے لیے ان کا ہر سلسلہ
ایسے قانون کو، ایسے قارون کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

1
52
عزم و ہمت کی فضا دل میں بسا رکھی ہے اب
جوشِ کامل کی یہ رو، خوں میں ملا رکھی ہے اب
دل میں ایماں کی ہے طاقت، جسم میں ہے روشنی
ظلمتوں کو ہم مٹائیں، ہم ہیں مثلِ روشنی
حق پہ مرنے کی قسم، یہ عزم ہم نے کر لیا
سر کٹے، پر جھک نہ پائے، یہ سبق ہے پڑھ لیا

40
یوں ہم نے مل کے چراغاں یہاں کیا ہوگا
محبتوں کے چراغوں سے دل جلا ہوگا
چمک اٹھے گی اندھیروں میں روشنی کی لَو
یہ آسمان بھی حیرت سے دیکھتا ہوگا
جو خواب آنکھوں میں پلتے رہے ہیں برسوں سے
وہ دن قریب ہے جب راستہ کھلا ہوگا

0
62
انصاف کا جنازہ نکالا گیا یہاں
حق بات کہنے والے کو مارا گیا یہاں
جابر کا حکم چلتا رہا ہر جگہ پہ اب
مظلوم کا ہی خون بہایا گیا یہاں
خواہش تھی روشنی کی، مگر ظلمتوں کے ہاتھ
ہر ایک خواب کو ہے مٹایا گیا یہاں

60
انسان کا ضمیر ہے خاموش اب سدا
یہ آج کے ہی دور کے رسم و رواج ہیں
تصویریں جو بدلتی ہیں، وہ سچ ہے آج کل
آئینہ بھی دکھا رہا بس جھوٹے خواب ہے

0
30
پانیوں کے شور میں یہ خامشی کیسی ہے آج
زندگی کے خواب میں یہ بے حسی کیسی ہے آج
پیڑ سارے جل رہے ہیں آگ میں سرکار کی
خاک ہو جائیں گے گل، یہ سرکشی کیسی ہے آج
ہم نے خود ہی کاٹ دی ہیں سب جڑیں اس پیڑ کی
شاخیں ساری خشک ہیں، یہ بے بسی کیسی ہے آج

0
38
بچھڑا ہوا ہوں خود سے، کوئی رابطہ نہیں
ہر لمحہ جُھوٹ بولوں، کوئی مسئلہ نہیں
آنکھوں میں اسکرین ہے، دل ہے بجھا ہوا
ماضی کی یادگاریں بھی، اب آئینہ نہیں
تنہائیوں کا شور ہے، دنیا عجیب ہے
الفاظ بولتے ہیں مگر سامعہ نہیں

0
35
ساحلوں پر چل رہی ہے، شام کی ٹھنڈی ہوا
چپ ہیں موجیں دل میں، چھائی بادلوں کی ہے گھٹا
ڈھل رہی ہے روشنی بھی، اب افق پر ہر قدم
زندگی کے سب ہی لمحے کتنے دلکش ہیں خدا
رات کی تنہائی میں، دل پر اُداسی چھا گئی
خامشی میں گونجتی ہیں، یاد کی پرچھائیاں

47
سحر جب بھی آئی سجا دی بہاریں
فلک کو سنوارا، زمیں کو نکھارا
یہ سب کچھ ہے اُس کا، عطا ہے وہ ساری
فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان
چمکتی ہیں ندیاں، درختوں میں رس ہے
یہ گہرے سمندر، یہ سبزہ کی چادر

0
29
محبت میں بھی ہم نے بس اذیت کو ہی پایا ہے
محبت کا صلہ کیا ملتا، غم ہی ہاتھ آیا ہے
نہ آنکھوں سے بہا آنسو، نہ دل نے شکوہ فرمایا
ہے اُس نے دل کو تڑپایا، جسے اس دل نے چاہا ہے
یوں ہوتا ہے محبت میں، ہر اک لمحہ کٹھن لیکن
دلوں میں حوصلہ رکھ کر، اُمیدوں کو بڑھانا ہے

0
51
آگِ دل سلگتی ہے آگ یہ بجھانی ہے
تم برا نہیں مانو کیا کروں جوانی ہے
فرق اب نہیں پڑتا آندھیوں کے آنے سے
تیرے نام کی ہم کو شمع اک جلانی ہے
تو رگوں میں بہتا ہےاس طرح لہو بن کر
تم مگر حقیقت کو کہتے ہو کہانی ہے

0
1
70
زمانہ مجھ سے کہتا ہے بدی کے آگے جھک جانا
سمندر ہوں مری فطرت میں ہے ساحل سے ٹکرانا
مرا سر کٹ تو سکتا ہے مگر یہ جھک نہیں سکتا
محمد کا سپاہی ہوں نہیں مرنے سے گھبرانا
مجھے طاغوت اور دجال کے لشکر سے کیا ڈر ہو
میں غازی ہوں مجھے جنگوں کی اگلی صف میں ہی پانا

0
1
103
جو بھی ہمیں ملا ہے اسی رب کی ہے عطا
بن بانگے اس نے ہم کو کیا کچھ نہیں دیا
پہچان ہم کو دی ہے مسلمان ہے کیا
سب عزتیں ہیں اس سے وہی سب کا ہے خدا
میرے لبوں سے گونج رہی ہے یہی صدا
وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ

0
5
390
نہ ہو ختم وہ انتہا چاہتا ہوں
نہیں کچھ خبر ہے کہ کیا چاہتا ہوں
کہاں ہوش میں ہے مزا بے خودی کا
محبت کی مے کا نشہ چاہتا ہوں
مریضِ محبت پہ کچھ تو کرم کر
مرض دائمی ہے شفا چاہتا ہوں

18
176
سنا ہے یہ ہم نے مسلمان ہیں ہم
تری سلطنت کے بھی سلطان ہیں ہم
زمیں پر اتارے گئے اس لیے ہیں
حکومت ہو تیری تو میزان ہیں ہم
مگر ایک صف میں کھڑے ہو نہ پائے
تو لگتا ہے جیسے بے ایمان ہیں ہم

0
75
رازِ دل کہہ رہا ناپ کر تول کر
عرض کرتا ہوں میں دل کے لب کھول کر
جو مجھے کچھ نہیں مانتے جان لیں
آنکھ بھی کھول کر کان بھی کھول کر
جو سمجھتے ہیں میں ان سے ڈر جاؤں گا
میں فرشتوں کا مسجود اور مان ہوں

0
158
ہر طرف بکھرے ہوئے ہر سمت پھیلے جال ہیں
دیکھتا ہوں جس طرف چھوٹے بڑے دجّال ہیں
جھونک دیتے ہیں تباہی میں یہ ساری قوم کو
سب کے سب بدمست ہیں سب ہی یہاں بے حال ہیں
حُبِّ دنيا، موت كا ڈر خاک ہم کو کر گیا
غیر قوموں کیلئے بازیچہ ءِ اطفال ہیں

44
ہستی مٹا کہ آپنے ہم کو بنا دیا
ورنہ تو ہم نہ ہوتے مگر صرف نقشِ پا
دنیا میں تجھ سا کوئی نہیں ہے ترے سوا
مولیٰ نے تجھ میں سارا خزانہ چھپا دیا
رب کا یقین ہے ہمیں کوئی گماں نہیں
دیکھا تجھے تو مجھ کو تو رب کا یقیں ہوا

0
44
اے جلوہِ حسن تو کیا جانے کیا چیز محبت ہوتی ہے
جب خونِ جگر کے جلنے سے آنکھوں میں حرارت ہوتی ہے
جب یہ دل اس کے خیالوں میں رک رک کر ایسے چلتا ہے
جب روحِ بدن میں قربت سے شبنم سی لطافت ہوتی ہے
کوئ جب اسکا ذکر کرے پلکوں سے موتی جھڑتے ہیں
خوابوں میں اس کو جب دیکھوں آنکھوں میں شرارت ہوتی ہے

53
اے جلوہِ حسن تو کیا جانے کیا چیز محبت ہوتی ہے
جب خونِ جگر کے جلنے سے آنکھوں میں حرارت ہوتی ہے
جب یہ دل اس کے خیالوں میں رک رک کر ایسے چلتا ہے
جب روحِ بدن میں قربت سے شبنم سی لطافت ہوتی ہے
کوئ جب اسکا ذکر کرے پلکوں سے موتی جھڑتے ہیں
خوابوں میں اس کو جب دیکھوں آنکھوں میں شرارت ہوتی ہے

0
46