یہ لہو، یہ دھواں، ظلم کی یہ فضا
جل رہا ہے یہاں پھر سے اہلِ غزہ
کس کو آواز دیں، کوئی سُنتا نہیں
دل میں غم، آنکھ نم، لب پہ بس یہ دعا
ہر صلیبِ ستم توڑ دے اے مجیب
عدلِ رب کی گھڑی آرہی ہے قریب
اے مسلمان تو بس تماشائی ہے؟
کیا تری غیرتِ دیں میں رُسوائی ہے؟
رہ گئے تنہا ہم، دیکھ لے اے خدا
کب تک آئے گی بس آہِ دل سے صدا؟
دل شکستہ ہیں سب، حال ہے یہ عجیب
عدلِ رب کی گھڑی آرہی ہے قریب
یہ زمیں جل رہی ہے، تو خاموش ہے
ساری امت کا چہرہ لہو پوش ہے
کیوں ملائک نہیں آ رہے ہیں یہاں
ہے کہاں تیری نصرت، اے ربِّ عُلا؟
اب مدد کر کہ مظلوم ہیں ہم غریب
عدلِ رب کی گھڑی آرہی ہے قریب
اے خدا! دیکھ لے دشمنوں کا غرور
کھو چکا ہے بشر سارا حسنِ شعور
آسماں سے عطا کر مدد لازوال
بھیج دے اب فرشتوں کی فوجِ کمال
تیرے بندوں کی حالت ہوئی ہے عجیب
عدلِ رب کی گھڑی آرہی ہے قریب
سارا عالم تماشے میں ہے یوں مگن
عدل کے نام پر ظلم کے ہیں جتن
ظلم کی آگ میں جل رہے بے گناہ
تیرے بندے ہیں یا رب، ہمیں دے پناہ
ختم کردے ستم بس بدل دے نصیب
عدلِ رب کی گھڑی آرہی ہے قریب
سر اٹھا کر کھڑے ہیں یہ اہلِ وفا
اب تو فریاد سن لے مری اے خدا
بس شہادت کے خوابوں کو دیکھا سدا
اپنی راہوں میں لکھا ہے بس کربلا
ہر طرف ظلم کی توڑ دے تو صلیب
عدلِ رب کی گھڑی آرہی ہے قریب

0
31