| بجھ گئے سارے دیے، پھر سے جلائیں کیسے |
| اس اندھیرے میں کوئی راہ دکھائیں کیسے |
| زندگی خود ہی ستمگر ہے تو شکوہ کیسا |
| اب کسی اور ستمگر کو ستائیں کیسے |
| لب پہ آئی ہو جو فریاد، وہ کہنے بھی نہ دیں |
| ایسے ماحول میں جذبات چھپائیں کیسے |
| دشمنِ جاں ہی اگر شہر کے رکھوالے ہوں |
| اپنی بستی کو لٹیروں سے بچائیں کیسے |
| بے خودی شرطِ وفا ٹھہری تو پھر اے دلِ زار |
| ہوش کی راہ میں ہم پاؤں بڑھائیں کیسے |
| اپنے ہی دل کی لگی خود سے بجھا لیں لیکن |
| جو لگی غیر کے ہاتھوں، وہ بجھائیں کیسے |
| خود کو بیچیں گے تو بازار میں قیمت ہوگی |
| اپنی غیرت کو مگر بیچ کے آئیں کیسے |
| ہم نے چاہا تھا سمیٹیں تری یادوں کے چراغ |
| تیرگی بڑھ گئی اتنی کہ چھپائیں کیسے |
| وقت کے ہاتھ میں خنجر بھی ہے، میزان بھی ہے |
| ہم پہ کیا بیت رہی ہے، یہ بتائیں کیسے؟ |
معلومات