بجھ گئے سارے دیے، پھر سے جلائیں کیسے
اس اندھیرے میں کوئی راہ دکھائیں کیسے
زندگی خود ہی ستمگر ہے تو شکوہ کیسا
اب کسی اور ستمگر کو ستائیں کیسے
لب پہ آئی ہو جو فریاد، وہ کہنے بھی نہ دیں
ایسے ماحول میں جذبات چھپائیں کیسے
دشمنِ جاں ہی اگر شہر کے رکھوالے ہوں
اپنی بستی کو لٹیروں سے بچائیں کیسے
بے خودی شرطِ وفا ٹھہری تو پھر اے دلِ زار
ہوش کی راہ میں ہم پاؤں بڑھائیں کیسے
اپنے ہی دل کی لگی خود سے بجھا لیں لیکن
جو لگی غیر کے ہاتھوں، وہ بجھائیں کیسے
خود کو بیچیں گے تو بازار میں قیمت ہوگی
اپنی غیرت کو مگر بیچ کے آئیں کیسے
ہم نے چاہا تھا سمیٹیں تری یادوں کے چراغ
تیرگی بڑھ گئی اتنی کہ چھپائیں کیسے
وقت کے ہاتھ میں خنجر بھی ہے، میزان بھی ہے
ہم پہ کیا بیت رہی ہے، یہ بتائیں کیسے؟

28