وقت کے ہاتھ میں تھا چراغِ سفر، ہم اکیلے ہی منزل کو جاتے رہے
خواب جتنے بھی ٹوٹے تھے راہوں میں وہ، اپنی پلکوں پہ ان کو سجاتے رہے
ہر قدم پر ہمیں تھا یقینِ وفا، روشنی کی طلب نے نہ بجھنے دیا
دشت کی تیرگی جب ہمیں روکتی، ہم امیدوں کی شمعیں جلاتے رہے
اک طرف زندگی میں تھی اتنی تپش ، اک طرف خواب آنکھوں میں سایہ فگن
دل کی دھڑکن میں جتنے چھپے راز تھے، خود تو بجھتے رہے، دل جلاتے رہے
ہم نے چاہا تھا کل رات بھر بات ہو، تم بھی خاموش تھے، ہم بھی خاموش تھے
ہم تمہیں بے زباں یونہی تکتے رہے، تم بھی چپ چاپ ہم کو بلاتے رہے
اب سحر کی طلب دل میں باقی نہیں، اب تو سانسوں میں جلتے دیے بجھ گئے
وقت کی لو پہ ہم خواب بنتے رہے، اور امیدوں کے آنسو بہاتے رہے
دن کے سائے میں تم نے صدا دی ہمیں، اور دنیا کی الجھن میں ڈھلتے گئے
دیر تک تم ہمیں یاد آتے رہے، دیر تک ہم یہ قصے سناتے رہے

0
29