| رازِ دل کہہ رہا ناپ کر تول کر |
| عرض کرتا ہوں میں دل کے لب کھول کر |
| جو مجھے کچھ نہیں مانتے جان لیں |
| آنکھ بھی کھول کر کان بھی کھول کر |
| جو سمجھتے ہیں میں ان سے ڈر جاؤں گا |
| میں فرشتوں کا مسجود اور مان ہوں |
| میں مسلمان ہوں میں مسلمان ہوں |
| ساری دنیا کی میں آن ہوں شان ہوں |
| میں مسلمان ہوں میں مسلمان ہوں |
| میری اس بے بسی پر یوں ہنستے ہیں جو |
| مجھکو مجبور کمتر سمجھتے ہیں جو |
| میرے آقا کی حرمت پہ آنچ آۓ گی |
| کچھ نہیں کر سکوں گا یہ کہتے ہیں جو |
| کہہ دو ان سے محمد کی اس شان پر |
| کل بھی قربان تھا اب بھی قربان ہوں |
| میں مسلمان ہوں میں مسلمان ہوں |
| میں محمد کے ایمان کی شان پر |
| کل بھی قربان تھا اب بھی قربان ہوں |
| ساری دنیا کی میں آن ہوں شان ہوں |
| میں مسلمان ہوں میں مسلمان ہوں |
| ایک اللہ پر میرا ایمان ہے |
| دل میں میرے دھڑکتا وہ قرآن ہے |
| رہ رہا ہوں زمیں پر مگر اس طرح |
| چند گھڑیاں گزارے جو مہمان ہے |
| میرے دم سے ہیں دنیا کی سب رونقیں |
| میں تو جنت میں بھی رب کا مہمان ہوں |
| مجھ کو دیکھو سبھی اہلِ ایمان ہوں |
| میں مسلمان ہوں میں مسلمان ہوں |
| ساری دنیا کی میں آن ہوں شان ہوں |
| میں مسلمان ہوں میں مسلمان ہوں |
معلومات