ترے فراق میں دن رات کا عذاب ہوا
کہ ہر نَفَس میں نیا درد بے حساب ہوا
بچھڑ کے تجھ سے غمِ دل کا معجزہ جو ملا
بجھا چراغ تھا میں اور آفتاب ہوا
یہ کس مقام پہ لے آئی میری تنہائی
جو موتی آنکھ میں تھا, بہہ کے وہ بھی آب ہوا
تھکا جو عشق میں دل، بے بسی نے ساتھ دیا
نہ ساتھ دوست کا پایا نہ دل خراب ہوا
جو دل کا حال تھا میرا، سبھی نے جان لیا
کہ راز دل بھی مرے دل سے بے نقاب ہوا
فنا کے بعد بھی دل میں تری ہی یاد رہی
یہ کس گناہ کا انجام و احتساب ہوا

0
49