| جو نہ پہنچا سکیں ان کے در پر، ایسے قدموں کا میں کیا کروں گا؟ |
| جو نہ لے جائیں طیبہ کی جانب، ایسی راہوں کا میں کیا کروں گا؟ |
| جس میں خوشبو نہ ہو ان کے در کی، جس میں رحمت کا جھونکا نہ آئے |
| ایسی صبحوں کا کیا ذکر کرنا، ایسی شاموں کا میں کیا کروں گا؟ |
| جو مدینے کی گلیوں میں جا کر، اپنے اشکوں کو بہنے نہ دوں میں |
| ایسی آنکھوں میں کیا نور ہوگا، ایسی نظروں کا میں کیا کروں گا؟ |
| میرے دل کی یہی آرزو ہے، میرے سینے میں شوقِ مدینہ |
| میری دھڑکن بھی ان کی امیں ہو، ورنہ سانسوں کا میں کیا کروں گا؟ |
| جو نبی کے نہیں، وہ مرے کیا؟ جو نبی کے ہیں، سب کچھ ہے ان کا |
| بس یہ نسبت مرا آسرا ہے، ورنہ رشتوں کا میں کیا کروں گا؟ |
| میری منزل تو بس ہے مدینہ، مجھے دنیا سے کیا لینا دینا؟ |
| جو سرابوں میں الجھے ہوئے ہوں، ایسے رستوں کا میں کیا کروں گا؟ |
| گر نہ ہونٹوں پہ ہو ان کی مدحت، جو سلاموں سے خالی ہوں لمحے |
| ایسے لمحوں کا رہنا بھی کیا ہے؟ ایسے لمحوں کا میں کیا کروں گا |
معلومات