| رگِ جاں میں جو رواں ہے، بخدا! تُو ہی ہے |
| میرے دل کی تو فقط ایک دعا تُو ہی ہے |
| گرچہ میں بندۂ عاصی بھی ہوں، ناکارہ بھی ہوں |
| میں نے ہر حال میں محسوس کیا، تُو ہی ہے |
| ختم کر ڈالے ہیں سب حیلے بہانے اپنے |
| اب مرے دل کی حقیقت میں صدا تُو ہی ہے |
| اے خدا! بخش دے تو، بخش دے سب میرے گناہ |
| کہ مرے دل کی ندامت کا صلہ تُو ہی ہے |
| ہر طرف شور ہے، طوفان میں گم ہے دنیا |
| میری بھولی ہوئی منزل کا پتا تُو ہی ہے |
| جب تجھے یاد کروں، تب مرا دل کہتا ہے |
| میرے ہر درد کی بس ایک دوا تُو ہی ہے |
معلومات