| نہیں ہے کوئی خوف، راہوں میں ہوں میں |
| مسافت کے سارے گواہوں میں ہوں میں |
| قدم بڑھ رہیں ہیں مرے رہگزر پر |
| یہی میری عظمت، وفاؤں میں ہوں میں |
| یہ کیسے مجھے روکے گا اب زمانہ |
| زمانے کی ساری نگاہوں میں ہوں میں |
| ہزاروں ہیں رستے یہ پیروں تلے اب |
| کہ ہمت کی اونچی فضاؤں میں ہوں میں |
| امیدوں کے سارے دیے جل رہے ہیں |
| کہ سب کے ہی دل کی دعاؤں میں ہوں میں |
| جہاں ظلم و سختی کی ہے حکمرانی |
| وہاں روشنی کی پناہوں میں ہوں میں |
| خدا کی قسم، میں نہیں جھک سکوں گا |
| کہ اپنی ہی حق کی صداؤں میں ہوں میں |
| نہ چاہت، نہ نفرت، کا قیدی نہیں میں |
| کہ صبر و رضا کی سپاہوں میں ہوں میں |
| ہر اک رنج و غم کو میں سہتا رہا ہوں |
| کہ صبر و سکوں کی بہاروں میں ہوں میں |
| جو دیکھے گا میری یہ ہمت کبھی بھی |
| وہ سمجھے گا میں بس ہواؤں میں ہوں میں |
معلومات