| یاد پلکوں پہ ستاروں سی سجی ہو جیسے |
| دھندلی آنکھوں میں تصویر تری ہو جیسے |
| خامشی شام کی سانسوں میں اُتر آئی ہے |
| چاندنی رات کے پہلو میں دبی ہو جیسے |
| اک ہتھیلی پہ سجا لی ہو دعا کی دنیا |
| دوسرے ہاتھ میں تقدیر رکھی ہو جیسے |
| دل کی دہلیز پہ امید کی رسمیں ٹوٹیں |
| پیار کی شمع بھی جل جل کے بجھی ہو جیسے |
| آج پھر درد کا سورج سرِ افلاک جلا |
| آج پھر چاندنی راتوں میں چھپی ہو جیسے |
معلومات