یاد پلکوں پہ ستاروں سی سجی ہو جیسے
دھندلی آنکھوں میں تصویر تری ہو جیسے
خامشی شام کی سانسوں میں اُتر آئی ہے
چاندنی رات کے پہلو میں دبی ہو جیسے
اک ہتھیلی پہ سجا لی ہو دعا کی دنیا
دوسرے ہاتھ میں تقدیر رکھی ہو جیسے
دل کی دہلیز پہ امید کی رسمیں ٹوٹیں
پیار کی شمع بھی جل جل کے بجھی ہو جیسے
آج پھر درد کا سورج سرِ افلاک جلا
آج پھر چاندنی راتوں میں چھپی ہو جیسے

0
68