| نہ ہو ختم وہ انتہا چاہتا ہوں |
| نہیں کچھ خبر ہے کہ کیا چاہتا ہوں |
| کہاں ہوش میں ہے مزا بے خودی کا |
| محبت کی مے کا نشہ چاہتا ہوں |
| مریضِ محبت پہ کچھ تو کرم کر |
| مرض دائمی ہے شفا چاہتا ہوں |
| ملے گر نہ جنت کوئی غم نہیں ہے |
| خدایا میں تیری رضا چاہتا ہوں |
| مرے رت جگے تجھ سے یہ کہہ رہے ہیں |
| جو مقبول ہو وہ دعا چاہتا ہوں |
| مجھے یہ خبر ہے کہ منزل کہاں ہے |
| جو کھویا ہے وہ راستہ چاہتا ہوں |
| سمودے سمندر کو تو بلبلے میں |
| میں ایسا کوئی معجزہ چاہتا ہوں |
| سلامت رکھے تو مری ہمتوں کو |
| براہیم کا حوصلہ چاہتا ہوں |
| درِ مصطفیٰ سے گزر کر جو آئے |
| وہ لو ہو کہ بادِ صبا، چاہتا ہوں |
معلومات