| مثلِ ساغر جو تری آنکھ بھری ٹھیک نہیں |
| بے سبب دل کی بھی پوشیدہ نمی ٹھیک نہیں |
| تیرے آنے سے تھا سارا ہی چمن مہکا مہکا |
| پر یوں نظروں سے تری خار کشی ٹھیک نہیں |
| تیرے الفاظ میں جو درد ہے وہ کھل کے بتا |
| یوں اکیلے میں بھی شیریں سُخنی ٹھیک نہیں |
| شعلہ بننے کی تمنا ہے تو ڈرنا کیسا |
| حالتِ خوف میں افروختگی ٹھیک نہیں |
| دل کی دھڑکن کو سمجھنے کا ہنر آتا ہو |
| تو یوں آنکھوں میں تری بے خبری ٹھیک نہیں |
| دیکھ سکتا ہوں تجھے دور سے لیکن جاناں! |
| فاصلہ جب ہو زیادہ تو خوشی ٹھیک نہیں |
| میرے جذبات پہ اک چھاپ ہے تیری اب تک |
| میری تکلیف پہ تیری یہ ہنسی ٹھیک نہیں |
| زخم تو وقت کے مرہم ہی سے بھرتے ہیں مگر |
| وقت بے وقت کی یہ نوحہ گری ٹھیک نہیں |
معلومات