| اِس راہِ بے نشاں پہ میں تنہا نہیں ابھی |
| رستے میں ہمسفر مرا مہتاب بھی تو ہے |
| جلتے ہیں دشتِ جاں میں کئی آگ کے گلاب |
| ویرانیوں کے بیچ یہ شاداب بھی تو ہے |
| اُجڑے ہوئے خیال میں خوابوں کی ایک لَہر |
| یادوں کے گنبدوں میں کہیں باب بھی تو ہے |
| چپ چاپ ہم نے درد کی تحریر کو سنا |
| ہر درد میں چھپا ہوا سیلاب بھی تو ہے |
| میں جس کو ڈھونڈتا ہوں انہی راستوں میں ہے |
| وہ سنگِ بے نشان مرا خواب بھی تو ہے |
| تنہا سہی، شکستہ سہی، ہار کر بھی دیکھ |
| اک در ہے دل کے پار، جو نایاب بھی تو ہے |
معلومات