Circle Image

مشفق سلیمان

@1234suleman

بچھڑا وہ غم گسار تو سگریٹ جلا لیا
تنہائی کا شکار تو سگریٹ جلا لیا
اس اک سیاہ زلف کو بھولا نہیں ہوں میں
جب یاد آئی یار تو سگریٹ جلا لیا
وہ جو چلا گیا کبھی واپس بھی آئے گا
کرنا تھا انتظار تو سگریٹ جلا لیا

0
19
کتنے جتن سے لایا تھا خوابوں کو کھینچ کر
پتھر کسی نے پھینک دیا نیند اُڑ گئی

0
31
شام ڈھلتے تنہائی صبح کو پشیمانی
ہے عجیب دنیا بھی ہر قدم پہ حیرانی
اے خدائے دو عالم اک صفت عطا کر دے
عقل کی فراوانی یا شعورِ انسانی
زندگی کے لمحوں میں دو ہی چیزیں ساتھی ہیں
ایک ہے اداسی اور دوسری پریشانی

0
30
میں نے سوچا تھا فسانے کو چھپا رہنے دوں
درد بڑھ جائے گا پھر میری ضرورت سمجھو
آخری لفظ ہیں جو مجھ سے کبھی بولے نہ گئے
آخری نظم ہی سمجھو یا شکایت سمجھو
تم کہ دنیاءِ حقیقت کی پری زادی ہو
میں جو خوابوں کے جزیروں کا ہی باشندہ ہوں

0
137
اے میرے خدا تیری رحمتیں ہیں فضا فضا میں مُشک بوٗ
تیری حمد ہو تیرا ذکر ہو میرے لفظ لفظ میں توُ ہی توُ
تو ہر ایک شَے میں عیاں عیاں تو نہاں کہیں،کہیں روبرو
تو ہی راز ہے تو ہی رازداں تیری شان جل جلالہٗ
کہیں کہکشاں کے نظام میں کبھی صبح میں کبھی شام میں
تیرا نور سب میں ہے مشترک سبھی خاص میں سبھی عام میں

0
29
آنکھیں مری آنسو سے سجانے کے لئے آ
غزلوں کا مری حسن بڑھانے کے لئے آ
اس بار تو مشکل ہے ترا لوٹ کے جانا
سورج کو ستاروں سے ملانے کے لئے آ
اک چیز جسے کہتے ہیں سب دل تجھے دی تھی
کچھ تبصرہ اس کا بھی سنانے کے لئے آ

0
67
اک جنتِ نظر ہے شنی وار پیٹھ میں
خوشبو کی رہگزر ہے شنی وار پیٹھ میں
آگے جہاں سے موڑ ہے اس مقام پر
اک ماہ روٗ کا گھر ہے شنی وار پیٹھ میں
مشفق تری نگاہ کسے ڈھونڈتی ہے اب
وہ اب کہاں ادھر ہے شنی وار پیٹھ میں

2
48
زندگی میں یوں بھی تو بھاگ دوڑ جاری ہے
جیسے دن گزارا ہے رات بھی گزاری ہے
روز دن کے ڈھلتے ہی اک ملال رہتا ہے
بات کیوں نہیں ہوتی یہ خیال رہتا ہے
کچھ دنوں کی باتوں سے عشق تو نہیں ہوتا
ہاں! لگاؤ ہوتا ہے عشق تو نہیں ہوتا

2
489
دریچے یادِ ماضی کے تمھارے سمت کھلتے ہیں
پریشاں دل بھی کاموں سے
تمھارے وصل کی خواہش لیے مغموٗم رہتا ہے
پھر اکثر میرے دل میں یہ
خیال آتا ہے
کہ اس دنیا کے جیسے اور بھی کتنے

0
47
ہو وصال اس کا یا ہجر ہو
چلو آج پھر وہی ذکر ہو
چلو آج پھر سے لکھیں غزل
دلِ بے ادب تو ذرا سنبھل
تجھے جس پری کی ہے آرزو
تجھے جس کو پانے کی جستجو

0
44
تبسّم کی قبا اوڑھے
ترنّم ساز وہ باتیں
انہی باتوں میں کھو کر
میں بھٹکتا ہوں
مری آوارگی
میری تھکن

0
36
آج کے عہد میں سب پانیوں پہ چلتے ہیں
اور ایک ہم ہیں جو ریت پر پھسلتے ہیں
روح کی تشقّی کو اک حریف ہو کمتر
ایک کام کرتے ہیں پھول کو مسلتے ہیں
منزلوں کی چاہت میں بزدلوں کی محفل میں
تم رہو شریفانہ خیر ہم نکلتے ہیں

0
62
صریرِ خامہ صفحے پر تو دل میں اضطرابی ہے
کوئی لغزش ہوئی برپا تو پھر بس بیقراری ہے
قلم جاری ہے صفحے پر وہیں رقّت بھی طاری ہے
میں عاصی اور رسول اللہ کی مدحت سرائی ہے
کچھ ایسی کیفیت بھی ہے کہ میں سرشار بیٹھا ہوں
وفورِ ذوقِ احمد میں رقم جذبات کرتا ہوں

0
51
حق بات کے پرچم جب لہرائے گئے ہوں گے
کچھ لوگ زمینوں میں دفنائے گئے ہوں گے
سمجھائے گئے ہوں گے بہلائے گئے ہوں گے
کم ظرف جو ہوں گے وہ للچاۓ گئے ہوں گے
اس دشت و بیاباں میں وہ پھول جو بے رنگ تھے
تدریس کی خوشبو سے مہکاۓ گئے ہوں گے

0
52
ایک لمحے کو یہ دنیا ہے سکونت کی مثال
لیکن اکثر یہی لگتا ہے فنا ہو جائے
جیسے تاریک مقامات میں مدّھم سا اجال
یو ہی کچھ دیر نوید آئے ہوا ہو جائے
کوئی آواز سی محرابِ ذہن میں ہے مقیم
کیا سنے گا کوئی ماضی کی کہانی میری

0
37
یہ احتمالِ جنوں ہے کہ دل فگار نہیں
ہزار بار یہ ٹوٹا کبھی کبھار نہیں
قلم ہے صفحہِ قرطاس بھی ہمہ تن گوش
سخن طراز طلب گارِ غم گسار نہیں
خرد نے سمجھیں ہیں آدابِ بندگی آخر
یہ دل کسی کی محبت کا اب شکار نہیں

0
74
پلٹ کے دیکھتا ہوں اپنا بچپنا مشفق
خموش سائے نظر آتے ہیں بھٹکتے ہوئے
کبھی کبھی کہیں تارے دکھائی دیتے ہیں
پتا نہیں کہ وہ تاروں کا کیا ہوا ہوگا
کہوں کہ ٹوٹ کے سارے بکھر گئے ہوں گے
یا انتظار میں میرے ہیں اب تلک روشن

0
52
غزل
لگے تمہیں وہ محترم نظر نظر کی بات ہے
وہی کسی کو بے شرم نظر نظر کی بات ہے
وزیر کے رفیق کو سیاستیں بھلی لگیں
کہے عوام ہے ستم نظر نظر کی بات ہے
کسی کو ہے نصیب کم، مگر نہیں ہے رنج و غم

0
56