بچھڑا وہ غم گسار تو سگریٹ جلا لیا
تنہائی کا شکار تو سگریٹ جلا لیا
اس اک سیاہ زلف کو بھولا نہیں ہوں میں
جب یاد آئی یار تو سگریٹ جلا لیا
وہ جو چلا گیا کبھی واپس بھی آئے گا
کرنا تھا انتظار تو سگریٹ جلا لیا
دوزخ ہے کیسی یاں نہ خزاں کی خبر ملی
نہ مژدۂ بہار تو سگریٹ جلا لیا
یادوں میں بس قیام کیے دن گزر گیا
شب کو بھی نہ قرار تو سگریٹ جلا لیا
خود سے ملے ہوئے مجھے عرصہ گزر گیا
ملنے کبھی کبھار تو سگریٹ جلا لیا

0
19