شام ڈھلتے تنہائی صبح کو پشیمانی
ہے عجیب دنیا بھی ہر قدم پہ حیرانی
اے خدائے دو عالم اک صفت عطا کر دے
عقل کی فراوانی یا شعورِ انسانی
زندگی کے لمحوں میں دو ہی چیزیں ساتھی ہیں
ایک ہے اداسی اور دوسری پریشانی
جس جگہ پہ خوشبو تھی پیڑ تھے صنوبر کے
آج کل وہاں پر بھی دور تک ہے ویرانی
پوچھتی ہو تم "میں یاد ہوں تمھیں اب بھی؟"
سب کو بھول بیٹھا ہوں تم کون ہو مہارانی؟

0
30