تبسّم کی قبا اوڑھے
ترنّم ساز وہ باتیں
انہی باتوں میں کھو کر
میں بھٹکتا ہوں
مری آوارگی
میری تھکن
سبھی دیدار سے اس کے سنبھل جاتے ہیں
کیا اس ماہ روٗ کو دکھائی
نہیں دیتی
مری الفت
مری چاہت
مری حالت
مری نظمیں
مری غزلیں
مری آنکھیں
جو اس کے حسن کے آنگن میں پڑی ہیں
لیکن اب بھی مری آنکھوں میں ہے بینائی
جو اس کے حسن کا ہر سو اعتراف کرتی ہیں
مگر ایسا مجھے لگتا ہے اس کو میں
دکھائی
نہیں دیتا
تو اکثر مجھ کو ایسا بھی
خیال آتا ہے وہ
چشمہ پہنتی ہے
شاید آندھی ہو گی

0
36