| یہ احتمالِ جنوں ہے کہ دل فگار نہیں |
| ہزار بار یہ ٹوٹا کبھی کبھار نہیں |
| قلم ہے صفحہِ قرطاس بھی ہمہ تن گوش |
| سخن طراز طلب گارِ غم گسار نہیں |
| خرد نے سمجھیں ہیں آدابِ بندگی آخر |
| یہ دل کسی کی محبت کا اب شکار نہیں |
| کبھی وہ بدلیوں کی مثل ساتھ چلتے تھے |
| ابھی تو نام کے ہیں دوست یارِ غار نہیں |
| زمانے گردشِ افلاک میں گزارے ہیں |
| چلاؤ شوق سے خنجر بھی ناگوار نہیں |
| کسی کے حسن پہ دولت پہ رشک کیوں ہی کرو |
| مصوّرِ جہاں کا تم بھی شاہکار نہیں؟؟ |
| خدا کا ذکر کرو انقلاب لے آؤ |
| خنک ہواۓ سحر کا تو اعتبار نہیں |
| وفا کی راہ میں مشفق ذرا سنبھل کے چلو |
| ہے خار زار زمیں دشتِ برگ زار نہیں |
معلومات