دریچے یادِ ماضی کے تمھارے سمت کھلتے ہیں
پریشاں دل بھی کاموں سے
تمھارے وصل کی خواہش لیے مغموٗم رہتا ہے
پھر اکثر میرے دل میں یہ
خیال آتا ہے
کہ اس دنیا کے جیسے اور بھی کتنے
جہاں ہوں گے
کہ جن میں، مَیں تمھاری زلفِ پیچاں کو
مرے ہاتھوں سے سلجھا
رہا ہوں گا
خلا میں کہکشاں میں اور بھی کتنے جہاں ہوں گے
کہ جن میں میری دنیا کی طرح جھگڑے
فسادات اور نفرت بھی نہیں ہو گی
یا پھر شاہد وہاں بھی میری دنیا کی طرح ہنگامہ
بپا ہو گا
یا پھر میری ذہنی صحت کا
جنازہ نکل چکا ہے
جو بہکی بہکی سی باتیں
میں کرنے لگا ہوں
مگر جو بھی ہو جیسا بھی ہو
کسی دنیا میں ہم
ہمراہ چل رہے ہوں گے
مری چاہت، مری الفت، مری آنکھیں
تمھارے حسن کے اطراف رہتی ہوں
یہ ڈپریشن تمھاری قرب کی خوشبو سے
ڈھل گیا ہو گا
اور دوسری دنیا کا میں صرف شاعری نہ کرتا ہو
تمھارے چاند سے چہرے پہ لکھی تحریر پڑھتا ہو
یہ ملٹیورس یہ دوسری دنیا شاید ہی حقیقت ہو
مگر جو بھی ہو جیسا بھی ہو " تم میری آخری محبت ہو"

0
47