حق بات کے پرچم جب لہرائے گئے ہوں گے
کچھ لوگ زمینوں میں دفنائے گئے ہوں گے
سمجھائے گئے ہوں گے بہلائے گئے ہوں گے
کم ظرف جو ہوں گے وہ للچاۓ گئے ہوں گے
اس دشت و بیاباں میں وہ پھول جو بے رنگ تھے
تدریس کی خوشبو سے مہکاۓ گئے ہوں گے
پھر دن کے اجالے میں تعبیر نہیں ہو گی
پھر شب کو بہت سے خواب دکھلائے گئے ہوں گے
مغموم سے باطن میں چہرے پہ ہنسی ہو گی
تب جا کے کہیں مشفق کہلائے گئے ہوں گے

0
52