| ایک لمحے کو یہ دنیا ہے سکونت کی مثال |
| لیکن اکثر یہی لگتا ہے فنا ہو جائے |
| جیسے تاریک مقامات میں مدّھم سا اجال |
| یو ہی کچھ دیر نوید آئے ہوا ہو جائے |
| کوئی آواز سی محرابِ ذہن میں ہے مقیم |
| کیا سنے گا کوئی ماضی کی کہانی میری |
| اور کیا سُن کے اسے ہوگا وہ سامع بھی ندیم |
| ورنہ بے وجہ ہی ہے اشک فشانی میری |
| لیکن اب میں نے بھی بدلا مرے جینے کا طریق |
| اور اب میں نے یہ سمجھا ہے کہ ضامن ہے خدا |
| بات اتنی بھی نہ پیچیدہ تھی، لگتی تھی دقیق |
| غم گسار اور نہیں کوئی بھی لیکن ہے خدا |
| اب مجھے نشترِ دنیا سے شکایت بھی نہیں |
| مختصر یہ کہ مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں |
معلومات