| میں نے سوچا تھا فسانے کو چھپا رہنے دوں |
| درد بڑھ جائے گا پھر میری ضرورت سمجھو |
| آخری لفظ ہیں جو مجھ سے کبھی بولے نہ گئے |
| آخری نظم ہی سمجھو یا شکایت سمجھو |
| تم کہ دنیاءِ حقیقت کی پری زادی ہو |
| میں جو خوابوں کے جزیروں کا ہی باشندہ ہوں |
| تم اپنے ہونٹوں کے تبسّم پہ یوں ہی ناز کرو |
| میں یہاں اپنے خیالوں ہی سے شرمندہ ہوں |
| کیا میرے شعر میری نظم تمہارے لیے ہیں؟ |
| اب نہیں ہیں! کہ یہاں "ہیں" کی جگہ "تھی" ہوگا |
| تم میرے دل سے نکل جاؤ گی تو سوچوں گا |
| چاہنے والا مجھے کوئی کہیں تو ہو گا |
| آپ سے تم کا سفر نظم ہی میں طے ہوگا |
| اب کہانی کسی مشکل سے نہیں گزرے گی |
| اب کہانی میں بھی کردار نہیں آئے گا |
| نئی فلموں کی طرح موڑ نہیں آئے گا |
| رات بھر چاند ستاروں سے مشورہ لے کر |
| میں نے یہ عہد کیا ہے کہ تمہیں بھولوں گا |
| سرمئی شام کے ڈھلتے ہوئے تم یاد آئی |
| تو میں سجدوں میں پڑا رہ کے ذرا رو لوں گا |
| سایَۂ اُنس و محبت ہو تمھارے ساتھی |
| میرے ہمراہ میری قسمت بھی نہیں ہونے والی |
| تھک چکا ہوں اب کسی پیڑ کے سائے میں رکوں گا |
| کیونکہ اب مجھ سے محبت نہیں ہونے والی |
معلومات