| زندگی میں یوں بھی تو بھاگ دوڑ جاری ہے |
| جیسے دن گزارا ہے رات بھی گزاری ہے |
| روز دن کے ڈھلتے ہی اک ملال رہتا ہے |
| بات کیوں نہیں ہوتی یہ خیال رہتا ہے |
| کچھ دنوں کی باتوں سے عشق تو نہیں ہوتا |
| ہاں! لگاؤ ہوتا ہے عشق تو نہیں ہوتا |
| میں جو ایک قطرہ ہوں تیرے خشک دریا سے |
| شاید اب چلا جائے مر ہی جائیں سب پیاسے |
| پیاس کی جو شدّت ہے تجھ کو بھی رہی ہو گی |
| وقت کیا ہی ٹھہرے گا ریل سا گزرتا ہے |
| اب بھی وقت ہے جانی آ سکو تو آ جاؤ |
| ورنہ زندگی اپنی سوچنے میں گزرے گی |
| بات کس نے روکی تھی بات کس نے پہلے کی |
| ملنے جب بھی آؤ گے پوچھنا ہے تم سے کہ |
| بات کچھ نہ ہونے کا دکھ تمھیں بھی ہوتا تھا |
| خیر رات باقی ہے سوچنے میں گزرے گی |
| کیا یہی محبت ہے کیا یہی محبت ہے |
| دل پکارے جاتا ہے بات کیوں نہیں ہوتی |
| بات کیوں نہیں ہوتی |
معلومات