زندگی میں یوں بھی تو بھاگ دوڑ جاری ہے
جیسے دن گزارا ہے رات بھی گزاری ہے
روز دن کے ڈھلتے ہی اک ملال رہتا ہے
بات کیوں نہیں ہوتی یہ خیال رہتا ہے
کچھ دنوں کی باتوں سے عشق تو نہیں ہوتا
ہاں! لگاؤ ہوتا ہے عشق تو نہیں ہوتا
میں جو ایک قطرہ ہوں تیرے خشک دریا سے
شاید اب چلا جائے مر ہی جائیں سب پیاسے
پیاس کی جو شدّت ہے تجھ کو بھی رہی ہو گی
وقت کیا ہی ٹھہرے گا ریل سا گزرتا ہے
اب بھی وقت ہے جانی آ سکو تو آ جاؤ
ورنہ زندگی اپنی سوچنے میں گزرے گی
بات کس نے روکی تھی بات کس نے پہلے کی
ملنے جب بھی آؤ گے پوچھنا ہے تم سے کہ
بات کچھ نہ ہونے کا دکھ تمھیں بھی ہوتا تھا
خیر رات باقی ہے سوچنے میں گزرے گی
کیا یہی محبت ہے کیا یہی محبت ہے
دل پکارے جاتا ہے بات کیوں نہیں ہوتی
بات کیوں نہیں ہوتی

2
489
مشفق صاحب یہ رباعی کیسے ہوئ زرا سمجھائیں گے ؟

محترم یہ نظم ہے کسی تکنکی خرابی کی وجہ سے رباعی لکھا ہوا ہے بہت شکریہ بتانے کا۔میں اس کو نظم کے زمرے میں داخل کر دوں بہت شکریہ آپ کا۔

0