آج کے عہد میں سب پانیوں پہ چلتے ہیں
اور ایک ہم ہیں جو ریت پر پھسلتے ہیں
روح کی تشقّی کو اک حریف ہو کمتر
ایک کام کرتے ہیں پھول کو مسلتے ہیں
منزلوں کی چاہت میں بزدلوں کی محفل میں
تم رہو شریفانہ خیر ہم نکلتے ہیں
ختم ہی نہیں ہوتے یہ نئے نئے تارے
کہکشانِ حسرت میں روز روز ملتے ہیں
حُسن اک نظر تیرا حسرت و تمنّا ہے
مہر و ماہ بھی تیری دید کو بدلتے ہیں
ایک شعر دنیا پر لکھنے والے تھے لیکن
تیری یاد میں مشفق شعر پھر بدلتے ہیں

0
62