| آج کے عہد میں سب پانیوں پہ چلتے ہیں |
| اور ایک ہم ہیں جو ریت پر پھسلتے ہیں |
| روح کی تشقّی کو اک حریف ہو کمتر |
| ایک کام کرتے ہیں پھول کو مسلتے ہیں |
| منزلوں کی چاہت میں بزدلوں کی محفل میں |
| تم رہو شریفانہ خیر ہم نکلتے ہیں |
| ختم ہی نہیں ہوتے یہ نئے نئے تارے |
| کہکشانِ حسرت میں روز روز ملتے ہیں |
| حُسن اک نظر تیرا حسرت و تمنّا ہے |
| مہر و ماہ بھی تیری دید کو بدلتے ہیں |
| ایک شعر دنیا پر لکھنے والے تھے لیکن |
| تیری یاد میں مشفق شعر پھر بدلتے ہیں |
معلومات