| صریرِ خامہ صفحے پر تو دل میں اضطرابی ہے |
| کوئی لغزش ہوئی برپا تو پھر بس بیقراری ہے |
| قلم جاری ہے صفحے پر وہیں رقّت بھی طاری ہے |
| میں عاصی اور رسول اللہ کی مدحت سرائی ہے |
| کچھ ایسی کیفیت بھی ہے کہ میں سرشار بیٹھا ہوں |
| وفورِ ذوقِ احمد میں رقم جذبات کرتا ہوں |
| نہ میں رومی نہ میں جامی نہ میں ہوں کعب یا حساّن |
| مگر میری دعا ہے یہ خدایا مجھ پہ کر احسان |
| عنایت تیری ہو مجھ پر ترا جاری رہے فیضان |
| مؤثر ہو سخن میرا مرا ہر شعر ہو میزان |
| تخیّل جانبِ طیبہ سعیِٔ نعت گوئی ہے |
| تفکّر نے میری کشتی تجلّی میں ڈبوئی ہے |
| کہ صحراءِ عرب میں تھا اندھیری رات کا ڈیرا |
| دلوں میں بعض و کینہ تھا کہیں ظلمات کا ڈیرا |
| کہیں توہم پرستی تھی کہیں شبہات کا ڈیرا |
| ہر اک جانب تھا صف آرا برے حالات کا ڈیرا |
| انہی تاریک راہوں میں سحر روشن ہوئی اک دن |
| کئی صدیوں سے بنجر تھی زمیں گلشن ہوئی اک دن |
| نویدِ صبح کہلائی رسول اللہ کی آمد |
| پیامِ انس لے آئی رسول اللہ کی آمد |
| اشد گرمی میں پرچھائی رسول اللہ کی آمد |
| گلِ رعناءِ صحرائی رسول اللہ کی آمد |
| اسی دن سے خدا نے اس زمیں پر رحمتیں بھیجیں |
| اسی دن نوعِ انساں نے خدا کی نعمتیں دیکھیں |
| محمد کے سکونت کا فضا ساماں رہی ہو گی |
| نبی کے قرب سے خود بھی فضا شاداں رہی ہو گی |
| صحابہ کے لیے وہ ساعتِ خنداں رہی ہو گی |
| منّور چاند سے زیادہ رخِ تاباں رہی ہو گی |
| فضاءِ شہرِ نبوی سے مری سانسیں مہکتی ہیں |
| بس اک دیدار کی خواہش لیے آنکھیں ترستی ہیں |
| مصدّق ھادءِ عالم صفات ان کی جدا سب سے |
| انہی کی نسبتاً پُرکار ہیں معراج کی شب سے |
| مقام امّت کو بالاتر دلایا آپ نے سب سے |
| بس اک فریاد ہے میری دعا مشفق کی ہے رب سے |
| مجھے سیرابی حاصل ہو خدایا آبِ کوثر سے |
| بشارت نورِ جنّت کی ملے دستِ پیمبر سے |
معلومات