ہو وصال اس کا یا ہجر ہو
چلو آج پھر وہی ذکر ہو
چلو آج پھر سے لکھیں غزل
دلِ بے ادب تو ذرا سنبھل
تجھے جس پری کی ہے آرزو
تجھے جس کو پانے کی جستجو
تری شاعری کا خیال ہے
وہی حسن وجہِ ملال ہے
وہی چہرہ رشکِ بہار تھا
جو غمِ خزاں میں وقار تھا
وہی ہونٹ جس کی نہ ہو مثال
وہی زلفِ یار کہ بس وبال
دلِ بے ادب تو ذرا سنبھل
جو تباہ آج ہوا ہے توٗ
وجہ اس کی ہے تری ماہ روٗ
تو بھٹک رہا ہے کیوں راہ سے
دلِ بے ادب تو ذرا سنبھل
مری بات سن مرے ساتھ چل
مرے ساتھ چل مرے ساتھ چل
دلِ بے ادب تو ذرا سنبھل

0
44