| غزل |
| لگے تمہیں وہ محترم نظر نظر کی بات ہے |
| وہی کسی کو بے شرم نظر نظر کی بات ہے |
| وزیر کے رفیق کو سیاستیں بھلی لگیں |
| کہے عوام ہے ستم نظر نظر کی بات ہے |
| کسی کو ہے نصیب کم، مگر نہیں ہے رنج و غم |
| کوئی ہے بس بھرے شکم نظر نظر کی بات ہے |
| کہے یہ جھوٹ حکمراں کہ چل رہا ہے سب صحیح |
| یہ سچ کہاں اُٹھا علم نظر نظر کی بات ہے |
| ملی مری نظر تبھی تو دل کی گفتگو ہوئی |
| تمہیں یہ جان ہے بھرم نظر نظر کی بات ہے |
معلومات