غزل
لگے تمہیں وہ محترم نظر نظر کی بات ہے
وہی کسی کو بے شرم نظر نظر کی بات ہے
وزیر کے رفیق کو سیاستیں بھلی لگیں
کہے عوام ہے ستم نظر نظر کی بات ہے
کسی کو ہے نصیب کم، مگر نہیں ہے رنج و غم
کوئی ہے بس بھرے شکم نظر نظر کی بات ہے
کہے یہ جھوٹ حکمراں کہ چل رہا ہے سب صحیح
یہ سچ کہاں اُٹھا علم نظر نظر کی بات ہے
ملی مری نظر تبھی تو دل کی گفتگو ہوئی
تمہیں یہ جان ہے بھرم نظر نظر کی بات ہے

0
56