| پلٹ کے دیکھتا ہوں اپنا بچپنا مشفق |
| خموش سائے نظر آتے ہیں بھٹکتے ہوئے |
| کبھی کبھی کہیں تارے دکھائی دیتے ہیں |
| پتا نہیں کہ وہ تاروں کا کیا ہوا ہوگا |
| کہوں کہ ٹوٹ کے سارے بکھر گئے ہوں گے |
| یا انتظار میں میرے ہیں اب تلک روشن |
| پتا نہیں کہ وہ لڑکا خموش سا کیوں ہے |
| میں اس سے پوچھتا اس کو گلے لگا لیتا |
| مگر وہ لڑکا میری دسترس میں آیا نہیں |
| پلٹ کے میں اسے اوروں کی طرح چھوڑ آیا |
| سریلے رنگ بھریں گے تمام سایوں میں |
| ستارے ٹوٹ کے بکھریں گے تو یہی ہوگا |
| وہ مسکرائے گا، اک روز مسکرائے گا |
| پلٹ کے دیکھوں گا پھر اپنا بچپنا مشفق |
معلومات