پلٹ کے دیکھتا ہوں اپنا بچپنا مشفق
خموش سائے نظر آتے ہیں بھٹکتے ہوئے
کبھی کبھی کہیں تارے دکھائی دیتے ہیں
پتا نہیں کہ وہ تاروں کا کیا ہوا ہوگا
کہوں کہ ٹوٹ کے سارے بکھر گئے ہوں گے
یا انتظار میں میرے ہیں اب تلک روشن
پتا نہیں کہ وہ لڑکا خموش سا کیوں ہے
میں اس سے پوچھتا اس کو گلے لگا لیتا
مگر وہ لڑکا میری دسترس میں آیا نہیں
پلٹ کے میں اسے اوروں کی طرح چھوڑ آیا
سریلے رنگ بھریں گے تمام سایوں میں
ستارے ٹوٹ کے بکھریں گے تو یہی ہوگا
وہ مسکرائے گا، اک روز مسکرائے گا
پلٹ کے دیکھوں گا پھر اپنا بچپنا مشفق

0
52