Circle Image

محمد جنید حسان تنہاؔ لائلپوری

@Tanha5555

منہ طمانچوں سے ٹماٹر ہو گیا
عشق کے ہاتھوں کچومر ہو گیا
عشق میں بیباک تھے پہلے پر اب
برہمی کا یار کی ڈر ہو گیا
مفلسی کی اک علامت تھی کبھی
اب پھٹے کپڑوں کا کلچر ہو گیا

1
177
تیرے لب کی مثال ہو جائے
لعل غصّے میں لال ہو جائے
منہ تکیں کوہ قاف کی پریاں
تیرا ظاہر جمال ہو جائے
آ مرے یار کی کمر کی لچک
شاخِ گل پر سوال ہو جائے

0
1
176
نظر کمزور ہوتی جا رہی ہے
چبھن رہتی ہے کانوں میں ذرا سی
مکمّل سر پیالہ تو نہیں، پر
کمی بالوں کی بالوں میں ذرا سی
بڑھاپا گھیرنے کو ہے، لپٹ جائیں
ابھی طاقت ہے بانہوں میں ذرا سی

0
1
140
جلوۂ صورتِ بے پردۂ یار
واہ رے واہ جوانی کی بہار
آج کے دن کا مزہ ہم سے نہ پوچھ
دیکھ چہرے سے خوشی کا اظہار
آج کا لطف، ملاقات کا لطف
یار اور یار بھی اچھا تیار

0
117
دن ہیں جو زندگی کے چار
گزر جائیں
نہ ہونے کا مزہ خوب ہے
معلوم ہوا ہے جب سے
تب سے ہر دم یہی رہتی ہے دعا ہونٹوں پر
کچھ نہیں چاہیے

0
108
لتّاں بانہواں سُکّا بالن
وچ چُل سینے دی پیا بَلّے
اُتّاں دَھریا ٹِین لہو دا
دل دا بَھکھدا کولا تھلّے
محمد جنید حسان تنہاؔ لائلپوری
Legs and arms are dry woods;

0
275
شرماؤ نہ دیتے ہوئے رخسار کا بوسہ
پھٹ جائے گا دانتوں میں دبایا جو دوپٹّہ
گنجائشِ حسرت نہیں خلوت میں شبِ وصل
ایک ایک مزہ محفلِ عشرت کا ہے تحفہ
سوتے ہیں چلو تان کے شب چادرِ مہتاب
کیا شرم، جھجک وصل میں، کس بات کا پردہ

0
116
ہنسنے والے شخص کا اپنے دل پر قابو ہو گا نا
آنسو ہو گا یا پھر اس کی آنکھ میں جادو ہو گا نا
شور مچانے والے بچّے یوں جو خاموش ہوئے ہیں
تتلی ہو گی باغ میں یا پھر کوئی جگنو ہو گا نا
وصل کی شب ہم نزع میں کیا آرام سے سوئیں گے بیمار
اوپر سر کے یار کا بازو، نیچے زانو ہو گا نا

112
سن سن کے وعظ شیخ! مرے کان پک گئے
ہوتا نہیں ہے تیری گراری کا تیل ختم
ایسا کر اب کی بار گلا گھونٹ دے مرا
ہو جائے ایک بار ہی میرا تو کھیل ختم

140
ایک مدّت سے منتظر ہوں میں
میرے ہی کیوں معاملے میں ڈھیل
کب سے آواز دے رہا ہوں تمھیں
راہ میں سو گئے ہو عزرائیلؑ!

122
شام ہونے کو آ گئی جیسے
آنکھ رونے کو آ گئی جیسے
وصل کے دن گزر گئے، شبِ ہجر
ساتھ سونے کو آ گئی جیسے

0
109
چھوڑ کر آسانیاں الفت میں دشمن کے لیے
ہم نے اپنے واسطے مشکل پسندی کو چنا
دل کے ارمانوں کا اپنے، اپنے ہاتھوں خون تھا
خوش ہیں لیکن ہم کہ تیری دل پسندی کو چنا

0
100
سخن شناس کریں گے ہمیشہ رو رو یاد
کہاں جہان میں اب کوئی میرؔ سا استاد

0
110
شور مچا، ہنگامہ اٹھا، پاؤں رگڑ، سینہ چھیل، پٹخا سر
یار کی چوکھٹ پر خاموشی سے بیٹھنے والے کچھ تو کر

111
مرنے والے کی عیادت کی ہے
آپ نے یوں ہی مشقّت کی ہے
دل محلّے میں جو ہے شور بپا
حسرتِ وصل نے ہجرت کی ہے
شہر میں کون تجھے جانتا تھا
ہم نے ہی تو تری شہرت کی ہے

127
جھلسے ہیں کبھی ہاتھ کبھی پاؤں جلے ہیں
آغوش میں ہم آتشِ سوزاں کی پلے ہیں
کیا نرم طبیعت جگر و دل، تنِ نازک
پوچھو نہ کہ سب یار کی تلوار تلے ہیں
کہتا ہے تو کہنے دے، نہ کر شیخ کی پرواہ
میکش ترے آگے کبھی پینے سے ٹلے ہیں

110
ڈبو تو ایسا ڈبو، یاد گار بھی نہ رہے
ہماری لاش سمندر میں تیرتی نہ رہے
وہ آندھیاں، وہ بگولے چلا کہ اس کے بعد
شبِ فراق رہے، میری جھونپڑی نہ رہے
ٹٹول سینہ مرا خوب، کوئی چنگاری
جلے ہوئے مرے دل کی کہیں دبی نہ رہے

87
”20 نومبر“
”یومِ پیدائشِ حضرتِ تنہاؔ“
”تنہاؔ جی کے نام“
میں چاہتا ہوں نومبر کی سرد راتوں میں
قریب لاؤں تمھیں اپنے، باتوں باتوں میں
کشش کی فورس زیادہ ہو، فاصلہ کم ہو

0
142
تمھاری یاد کے کتاب خانے میں تمھارا فلسفی نئے نئے تخیّلات کو فروغ دے رہا ہے
نفسیات کو فروغ دے رہا ہے

0
103
او منبعِ جمال! زمانے سے احتیاط
بے پردہ پشتِ بام پہ جانے سے احتیاط
اظہار تک نہ لائیے پوشیدہ دل کی بات
خوابیدہ جنسِ شوق جگانے سے احتیاط
ہنگامۂ جہان سے چھوٹا ہوں دیر میں
تربت پہ میری شور مچانے سے احتیاط

0
101
سخن شناس کریں گے ہمیشہ رو رو یاد
کہاں جہان میں اب کوئی میرؔ سا استاد

0
137
شور مچا، ہنگامہ اٹھا، پاؤں رگڑ، سینہ چھیل، پٹخا سر
یار کی چوکھٹ پر خاموشی سے بیٹھنے والے کچھ تو کر

196
ہم نے موقع ہزار بار دیا
وہ ہمیں چھوڑ کر گیا ہی نہیں
با وفا یار تھا کوئی یارو!
وہ پرندہ پرندہ تھا ہی نہیں

125
مصیبتیں ہیں ابھی میری زندگی میں کئی
او مہرباں مرے، مت مانگ میرا ساتھ ابھی
خدا نے چاہا تو وعدہ رہا ملیں گے ضرور
مگر ابھی کے لیے معذرت کہ ہوں مجبور

0
97
ہول، وحشت، سکوت، سنّاٹا
اب کہاں ساز، رقص، سُر، سنگیت
جنگلوں کو نکل چلو تنہاؔ
شہر میں گھومتے ہیں بھوت پریت

108
لیے پھرتا ہے ساتھ ساتھ مجھے
تھام کر جیسے میرا ہاتھ مجھے

147
میرے اشعار ہیں شراب ملے
اتنا مت پڑھ کہ کل عذاب ملے

116
غیر کا کیا سوال رکھتا ہے
یار کتّے بھی پال رکھتا ہے

0
98
کوئی کیا جانے کیا ہے جھیل
چاند کا آئینہ ہے جھیل

0
91
وقتِ غروب ہے، کہیں سورج مچل نہ جائے
انگڑائی سے تمھاری زمانہ بدل نہ جائے

0
93
زلفیں تمھاری قد سے تمھارے ہی بڑھ گئیں
سر پر چڑھا رکھا تھا بہت، سر ہی چڑھ گئیں

119
بادہ و جام کو برا جانے
شیخ بیچارہ خیر کیا جانے

95
اللّٰه! والدین کی خدمت نصیب کر
رحمت سے تیری دُور ہوں، مولا! قریب کر

139
بیٹھا ہوں زیرِ سایۂ زلفِ درازِ یار
کر لو شبِ وصال خوشی کا مری شمار

0
114
کہہ دیا ہم نے کبھی اور کبھی شرماتے رہے
اور ہنس ہنس کے کبھی پھیپھڑے گرماتے رہے
شعر گوئی میں کبھی قبض رہا غالبؔ کو
اور کبھی یوں بھی ہُوا خط میں جلاب آتے رہے

0
253
اقبالؔ فلسفی کو سخنور نہ جانیے
دو بندشوں کو میرؔ کا دفتر نہ جانیے

0
95
ہُوا ہوں جو گدا اس کی گلی کا
ٹھکانہ ہی نہیں میری خوشی کا
ملائے خاک میں دل ہر کسی کا
پتا ہی کیا اسے شے قیمتی کا
پڑی ہے ایک کے بعد اک مصیبت
نہیں امکان کچھ آسودگی کا

0
110
زخم جھیلے ہیں، رنج اٹھائے ہیں
سینہ و دل پہ داغ کھائے ہیں
سر پہ درد و الم کے سائے ہیں
زندگی! اور چاہتی ہے تُو کیا ؟
بوجھ سے جھک گئی ہے کمر
غم کی شدّت سے پھٹ گیا ہے جگر

0
124
بوسہ نہیں تو لمسِ عنایت کبھی کبھی
کچھ تو خیال و خواب میں رغبت کبھی کبھی
پوچھا جو ہم نے بوسے کا، شرمائے اور پھر
کہنے لگے کہ ایسی شرارت کبھی کبھی
وعدہ رہا پئیں گے نہ ہم روز روز جام
لیکن جنابِ شیخ! اجازت کبھی کبھی

0
137
کچھ اور ذکر بھی شاید زبان سے نکلے
جو تیرا جلوۂ رخسار دھیان سے نکلے
تری نگاہ مری جانب ایسے اٹھتی ہے
کہ جیسے تیر ہدف پر کمان سے نکلے
ہمارا دل ہے، کسی کی قیام گاہ نہیں
کرایہ دار بھی ہے تو مکان سے نکلے

81
یوں ہی نہیں زمانہ دوانہ بنا رکھا
اس نے جہاں کا حسن بغل میں دبا رکھا

0
109
نہ چھیڑ ذکر صنم کے رسیلے ہونٹوں کا
یہ شہد چاٹ چکا ہوں میں گیلے ہونٹوں کا

0
170
میں نے امکان کی سرحد سے پرے تک دیکھا
زندگی! حد ہے کہ ہر حد سے پرے تک دیکھا

0
158
معصوم سے چہرے کی ادا دیکھ رہا ہوں
بندہ ہوں مگر بن کے خدا دیکھ رہا ہوں

0
152
کون سنتا ہے مری شامِ خموشاں کی پکار
بیٹھتے تک نہیں آ پاس پرندے دو چار

0
113
اگرچہ خوب ہے غالبؔ بیان میں لیکن
نہیں یگانہؔ سا شاعر جہان میں لیکن

0
111
نہ پوچھ یار مرے کا جمال کیسا ہے
مجھے تو یاد ہے ایک ایک بال کیسا ہے
سوالِ بوسہ شبِ وصل ابھی کیا بھی نہیں
رخ ان جناب کا غصّے میں لال کیسا ہے
سنا ہے آپ کا بازارِ حسن میں بڑا نام
لگا کے ہاتھ بھی دیکھیں تو مال کیسا ہے

0
103
طغیانیِ شباب ہے میری نگاہ میں
ہر لطف بے حساب ہے میری نگاہ میں
خاطر نشین کیا ہو رخِ داغدارِ ماہ
رخسارِ آفتاب ہے میری نگاہ میں
زم زم سے اور حرم سے غرض ہو تو شیخ کو
میکش ہوں میں، شراب ہے میری نگاہ میں

0
162
رات کیا لطف میں بسر ہوتی
ریشمی ریشمی سحر ہوتی
تیرے بازو پہ رکھ کے سر سوتے
زلف تیری اِدھر اُدھر ہوتی
میری صدیوں کی خشک پیشانی
تیرے ہونٹوں سے لگ کے تر ہوتی

0
116
ریختہ سہل نہیں آپ نے ارشاد کیا
ہم نے پھر میر تقی میرؔ کو استاد کیا
”یوں تو دس گز کی زباں“ میرؔ بھی رکھتے تھے مگر
”بات کو طول نہیں دیتے“ ہم، آزاد کیا
”سینہ ہے چاک، جگر پارہ ہے، دل سب خوں ہے“
مصرعِ میرؔ نے آزردہ و ناشاد کیا

0
96
صنم کو چیر کے سینہ دِکھا نہیں ہوتا
حقِ وفا ہے کہ ہم سے ادا نہیں ہوتا
پڑا ہُوا ہمیں چوکھٹ پر اپنی دیکھتا ہے
ہمارا یار مگر سیخ پا نہیں ہوتا
تمام لوگ برابر ہیں شان و عزّت میں
جہان میں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا

0
87
مکتبِ شیخ سے بری ہیں ہم
پارسائی کی ہم پہ تہمت ہے
جُوا خانہ ہمارا اڈّا ہے
اور ہمیں تو شراب کی لت ہے

0
122
دنیا قسم خدا کی جہنم سے کم نہیں
ناپائيدار زندگی ماتم سے کم نہیں
سو سو طرح کے پھول کِھلیں صحنِ دل کے بیچ
آنا ترا بہار کے موسم سے کم نہیں
قہر و غضب کے آپ کلہاڑے چلائیے
سینہ ہمارا ہیزمِ شیشم سے کم نہیں

0
116
آقائے دو جہاں ہیں محمدﷺ پیام بر
رشکِ پیمبراں ہیں محمدﷺ پیام بر
حاصل ہے جاہ و شانِ بزرگی حضورؐ کو
غزوات کے جواں ہیں محمدﷺ پیام بر
ہیں پیشوائے اہلِ خرد خاتم الرسلؐ
استاذِ عاقلاں ہیں محمدﷺ پیام بر

0
123
شراب خانے کے لڑکے ہیں شیخ جی! نٹ کھٹ
یہاں سے بھاگیے تہبند تھام کر جھٹ پٹ
ہے بار بار کی تکلیف ناخنوں کے لیے
رفو گروں! نہ سلائی کرو ہمارے پھٹ
ہمارا گھر نہیں، ویرانہ ہے خدا کی قسم
نہ کوئی چاپ، نہ دستک، نہ ہی کوئی آہٹ

0
102
فریادؔ کی غزل کی اچھی زمین ہے
شاگرد میرا مجھ سے خاصا ذہین ہے
شاید کہ وصل کی شب چُپ بہترین ہے
گھونگھٹ اٹھائیں کیا، وہ پردہ نشین ہے
ہم مے کشوں کا کامل مے پر یقین ہے
اسلام کیا ہے واعظ! کیا تیرا دین ہے

0
181
ہم تمھارے بغیر تنہاؔ ہیں
تم ہمارے بنا ادھوری ہو
آدھے آدھے سے جسم ہیں دونوں
ہم بھی پورے ہیں، تم بھی پوری ہو
نہ تو کالی سیاہ ہو نہ سفید
بس ہماری طرح کی بھوری ہو

0
234
دیکھنے والے کیا نہ دیکھیں گے
تیرے اندر وفا نہ دیکھیں گے
ہجر میں تیرے عاشقِ بیمار
کبھی شکلِ دوا نہ دیکھیں گے
مئے دو آتشہ پئیں گے خوب
اپنا اچھا، برا نہ دیکھیں گے

0
119
جسم محسوس کرے دن کا اثر شام کے بعد
روح پھر ڈھونڈتی پھرتی رہے گھر شام کے بعد
دن میں خورشید کے پرتَو سے تو گھبراتے ہیں
تیرے پروانوں کو لگتا نہیں ڈر شام کے بعد
میرؔ صاحب سے ملاقات کا کہہ کر تنہاؔ!
روز جاتے ہو خدا جانے کدھر شام کے بعد

0
142
نہ وضعِ حرف ہی بدلی نہ اندازِ بیاں بدلا
زمیں بدلی نہ ہم بدلے نہ رنگِ آسماں بدلا
عتاب و خشم و جوش و غصّہ و طیش اب بھی ہے یا کچھ
عتاب و خشم و جوش و غصّہ و طیشِ بتاں بدلا؟
سیاست سے ہمیں وابستگی ہے اس قدر یعنی
کسی نے شور ڈالا، سُن گیا، اک حکمراں بدلا

0
347
کوچۂ دلربا کے چکّر کاٹ
چیر صحرا کا دل، سمندر کاٹ
بلبلِ جان اُڑنے والی ہے
لاکھ پنجرے میں قید کر، پَر کاٹ
قصّۂ رنجِ ہجرِ دوست ہو ختم
کاغذی پیرہن کا دفتر کاٹ

0
728
مغ بچوں! لاؤ یہاں کھینچ کے دستار کے ساتھ
باندھ دو شیخ کو میخانے کی دیوار کے ساتھ
ضعف میں چاہیے اک نیند کی گولی شب کو
صبح اک چائے کا کپ چاہیے اخبار کے ساتھ
بد سلوکی کا کریں آپ کی ہم کس سے گلہ
کون لڑ پائے گا شیرینیِ گفتار کے ساتھ

0
215
لوٹ تو آؤ گے، لوٹاؤ گے دن رات کسے
پھر میسر بھلا آئیں گے یہ لمحات کسے
خوب لگتا ہے ابھی دیس سے پردیس تمھیں
کام ہے خوب یہاں، آتے ہیں سندیس تمھیں
ایک دن دیکھنا پہنچے گی بہت ٹھیس تمھیں
فیصلہ کر جو چکے ہو تو اجازت کیسی

0
173
اُس سے آنکھیں مِلاؤں تو کیسے
بات آگے بڑھاؤں تو کیسے
اُسے سو سو طرح کے شکوے ہیں
اُسے اپنا بناؤں تو کیسے
جانِ جاں! میں کسی کو تیرے سِوا
اپنے دل میں بساؤں تو کیسے

0
118
باریک گردن ایک صراحی ہے گھر پہ کیا
مصرع اب اور باندھیے اُس کی کمر پہ کیا

0
434
ہے خاندان، ذات، قبیلہ بھی اور اور
اوپر سے تیرا، میرا عقیدہ بھی اور اور

0
147
باپ داداؤں کے مذہب سے بغاوت کرو گی؟
ہو کے عیسائی مسلماں سے محبت کرو گی؟

0
291
میرے پہلو میں لیٹنے والی
گوری چٹّی ہے، تُو تو تھی کالی

0
162
تم نے مہندی جو لگائی تو دِکھائی کیسے
ہاتھ رکھ منہ پہ ہے تصویر بنائی کیسے

0
155
میری یادیں تمھیں کریں گی تنگ
آئینے سے کیا کرو گی جنگ

0
165
دنیا میں اسلام اور نصرانیّت کا دستور چلے
ہم مسلم، وہ نصرانی مل کر دنیا سے دُور چلے

0
130
اس کی، میری محبت کا معاملہ بڑا ہی عجیب ہے
میری زبان پہ ہے لا الہٰ، اس کے گلے میں صلیب ہے

0
169
گو شہر میں عیسائی سیہ فام بہت ہیں
ایک آپ ہیں، سیم و شفق اندام بہت ہیں

0
139
مجھے میری مسلمانی نے مروایا
دل اک عیسائی لڑکی کو ہوں دے آیا

0
438
مسلماں ہوں میں، وہ عیسائی لڑکی
میں بے ایمان، وہ شیدائی لڑکی

0
120
تنہاؔ! غمِ تنہائی کا آزار ملا ہے
پہلو میں مگر دل، دلِ غمخوار ملا ہے

0
140
خاموشی سے قسمت ساتھ نبھائی جائے
آئینے پر لعنت کیوں برسائی جائے

0
121
میں ہی تنہاؔ نہیں، دنیا ہے طلبگار کہ بس
لائقِ بوسہ ہیں اس کے لب و رخسار کہ بس

0
107
آگہی کا دریچہ کُھلتا ہے
تب جہالت کا داغ دُھلتا ہے

0
194
مے، تلخئ حیات کو پیتا ہوں گھونٹ گھونٹ
مرتا ہوں گھونٹ گھونٹ میں جیتا ہوں گھونٹ گھونٹ

0
166
شعر و سخن میں سب سے جدا نام آتا ہے میراجیؔ کا
اک دنیا سے ما وراء مقام آتا ہے میراجیؔ کا
آہ و نالہ، گریہ و زاری، میر تقی کے واویلے
معمولی ہیں، آگے کہرام آتا ہے میراجیؔ کا
شور، آشوب اکٹھے کر لو ذوقؔ و سوداؔ و غالبؔ کے
ایک طرف ان سب کے آرام آتا میراجیؔ کا

0
113
اندھیری سیاہی
میں تنہاؔ رہوں گا
تباہی سہوں گا
نہ آئے گا کوئی
مرے غم کدے میں
پرانی کتابیں

0
2
169
دل کے ہاتھوں آدمی مجبور ہے
شاعری ہی اپنا اب دستور ہے
بات مَیں ایسے بھلا کس سے کروں
خود میں ہر ہر شخص تو مغرور ہے
چاہیے ہے حوصلہ دلجوئی کو
بے وفائی میں تو وہ مسرور ہے

4
823
سنو! اے اجنبی! پردیس کو ہی لوٹ چلو
تم جسے ڈھونڈتے آئے ہو وہ یہ گاؤں نہیں
جو بتاتے ہو تم اس گاؤں کا نقشہ، ہے غلط
ٹھنڈے پانی کی یہاں نہر نہیں بہتی کوئی
دھوپ ہی دھوپ ہے، پیڑوں کی گھنی چھاؤں نہیں
جن درختوں تلے کہتے ہو کہ تم کھیلتے تھے

116
دشتِ جنوں سے دُور نکل کر بھی دیکھ لیں
قیس! آؤ، عید ہے تو ذرا گھر بھی دیکھ لیں

181
بچھڑے ہیں تجھ سے جب سے، بہت بے یقین ہیں
معلوم کچھ نہیں کہاں ایمان و دین ہیں

0
145
اک معالج مجھے تجویز دوا کرتا ہے
ایک محسن ہے، مرے حق میں دعا کرتا ہے
دیکھئے ہوتا ہے اب کس کا اثر صحت پر
کس کا اخلاص قبول آج خدا کرتا ہے

127
خدا کسی کو کسی سے اگر جدا بھی کرے
تو لذتِ غمِ فرقت سے آشنا بھی کرے

0
126
آشنائی ہوئی نصیب، نصیب
کر لیا یار نے قریب، نصیب
مرضِ عاشقی کے مشکل وقت
مر گئے شہر کے طبیب، نصیب
میں تو عیسیٰؑ مسیح تھا اس کا
کھا گیا گُھن مری صلیب، نصیب

163
داغ چہرے سے زمانے کے مٹا آئے گی
بیچ کر جسم وہ کم بخت نہا آئے گی

0
166
دیکھنا باقی رہے نہ میری تربت کا نشاں بھی
چین سے رہنے نہ دیں گے آدمی تنہاؔ یہاں بھی

0
183
تنہاؔ دوستا! دھیان رکھیں، تُو ایں جھلّا کملا
ہو سکدا اے کسے ویلے دشمن نفس دا حملہ

0
129
خدا نصیب کرے شیخ! تجھ کو خلدِ بریں
ہماری دوزخِ دنیا سے ہو گئی تسکیں

179
نہ کرنا غور میرے خط پہ، بس مجھ کو سزا دینا
مرے جرمِ محبت پر مری گردن اڑا دینا
مرا ہر نقش چاہو ذہن سے اپنے مٹا دینا
تمھارے پاس جتنے خط ہیں میرے سب جلا دینا
اگر بولے زیادہ تو گلا ہلکا دبا دینا
مرے نامہرباں کو بھی نہ آیا فیصلہ دینا

0
981
مرے سنگ سنگ نباہ کر، مرا انگ انگ تباہ کر
مرا جسم جسم نچوڑ دے، مری روح روح گناہ کر
شبِ وصل روک نہ جسم کو، شبِ وصل ٹوک نہ جسم کو
ہے جنوں لباس لباس میں، ذرا دیکھ دیکھ نگاہ کر
تجھے کیا سے کیا نہ دِکھا دیا، تجھے کیا سے کیا نہ تھما دیا
میں لذیذ ذائقہ ذائقہ، تجھے فائدہ مجھے بیاہ کر

0
242
یار کھڑاتا لبھ لبھ ہارا، سو سو کیتا چارہ
آخر ٹٹّے دل نوں جگ توں کرنا پیا کنارہ
شکر خدا دا مرشدا تنہاؔ! اندر جھات پوائی
زندہ ہو گیا مر کے جیویں میں ہک وار دوبارہ

0
201
ٹانکے اُدھیڑ دے مری مشکل کے کھینچ کھینچ
میں تھک گیا ہوں فاصلے منزل کے کھینچ کھینچ

0
164
کیا ذکرِ خیر، چہرہ و زلف و نگاہ کا
عالم ہے ایک جیسے سپید و سیاہ کا

0
284
پیالۂ زہر گراتا نہیں، پیتا بھی نہیں
تیرا سقراط ہوں، مرتا نہیں، جیتا بھی نہیں

0
213
سنتے ہیں، کچھ پسند نہیں آنجناب کو
چھوڑو جی، اب سے آگ لگے اس شراب کو

0
157
داستانِ گزر بسر کی نہ پوچھ
درہمی کا ہمارے گھر کی نہ پوچھ

0
140
آپ سے تم، تم سے تُو ہونے لگے
دوست تھے اچھے، عدو ہونے لگے
جب کبھی برسات میں چھائے گھٹا
دل میں پیدا آرزو ہونے لگے
کیا خبر اِس خاک کے ذرّے کی بھی
آسماں سے گفتگو ہونے لگے

0
436
مصرعے مصرعے میں مَیں اکیلا ہوں
شعر پورا کرو میں تنہاؔ ہوں

0
149
بارے سیاست اپنی زباں بند ہے مکمل
پڑتے نہیں ہم اس میں، اجی! گند ہے مکمل

0
121
کون حافی؟ کہاں کے ہیں زریون؟
میرؔ و ساغرؔ تو ہیں محلّہ دار

0
140
درد آنکھوں سے بہہ گئے کیا کیا
غم ہم اک دل میں سہہ گئے کیا کیا
عکسِ آئینہ سے ہوا معلوم
داغ چہرے پہ رہ گئے کیا کیا
سینہ جیسے کھنڈر کی صورت ہے
دل محلّات ڈھ گئے کیا کیا

0
145
مٹی، مٹی رہی، مٹی سے بنا کچھ بھی نہیں
میرے تابوت میں مٹی کے سوا کچھ بھی نہیں

0
153
تم کیا جانو درد ہمارے
واہ کرو تم، واہ تمھارے

0
179
زندگی تلخ نہ ہوتی، یہ ہنر ہی جاتے
بے وفا یار کے ملنے سے تو مر ہی جاتے

0
131
اک ہنر کر گئے ہم چاہنے والے تیرے
جیتے جی مر گئے ہم چاہنے والے تیرے

0
181
رہے ہیں زندگی بھر ہمسفر کانٹے
چڑھائے جائیں مری قبر پر کانٹے

0
143
رنگ رنگ اس کی کلائی، کھنکھناتیں چوڑیاں
وہ جو شرماتی تو اس کی مسراتیں چوڑیاں

0
159
اُجڑی ہوئی بستی میں آتے نہ تو اچھا تھا
سرشاری و مستی میں آتے نہ تو اچھا تھا
ہنگامۂ ہستی میں آتے نہ تو اچھا تھا
محشر طلباں آئے
افسوس! کہاں آئے
افسوس! یہاں آئے

0
108
”ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں“
ملال و غمِ بیکراں اور بھی ہیں
بہت ہیں ابھی اور منصور حلّاج
”اناالحق“ کہیں، سولیاں اور بھی ہیں
نہیں محض دیر و حرم، مے کدہ ہی
فقیروں کے سو آستاں اور بھی ہیں

0
211
دیارِ غیر میں گزرے دن اکثر یاد آتے ہیں
تری چاہت میں کھائے سر میں پتھر یاد آتے ہیں
کہاں وہ جنگ کا میدان، گھوڑے ہنہناتے تھے
مقابل آئے وہ خوبانِ خود سر یاد آتے ہیں
گئے برسات کے دن، وصل کی راتیں گئیں کب کی
لہو روتے ہیں، تیرے گیسوئے تر یاد آتے ہیں

0
201
پھر نہیں آئیں گے ہم تیرے جہاں میں جاناں!
ہمیں سوگند ہے ماہِ رمضاں میں جاناں!

0
171
زندگی یا موت ابھی تک فیصلہ کچھ بھی نہیں
مجھ سے بیمارِ محبت کی دوا کچھ بھی نہیں
ان سے بچھڑے ہیں مگر زندہ ہیں پہلے کی طرح
وہ سمجھتے ہیں ہمیں اب تک ہُوا کچھ بھی نہیں
عشق صادق ہے ہمارا، ہم کہاں گھبرائیں گے
آپ کا غصہ، غضب، جور و جفا، کچھ بھی نہیں

0
146
حسابِ حشر کا عالم جہاں میں ہو تو چکا
ہمیں عذابِ جہنم جہاں میں ہو تو چکا

0
156
میں تو مردہ ہوں، مجھے سانس کہاں آتی ہے
اُس کے چُھونے سے مرے جسم میں جاں آتی ہے

0
2
197
مالی کو فکر باغ کی، دہقاں کو کھیت کی
ساحل پہ گھر ہے میرا، مجھے فکر ریت کی

0
6
301
کیسی فکرِ قبرستان، کہیں بھی ڈال آؤ
ہم کھٹارا سے ہیں انسان، کہیں بھی ڈال آؤ

0
123
رہتی ہے بہت زلفِ گرہ گیر، گرہ گیر
تدبیرگر اس کا کوئی ہے، کرے تدبیر

0
169
میں نے اتار پھینک دیا سو لباسِ جسم
دنیا نئی نئی تھی، پرانی تھی میری ذات

134
ہم تمھارے بغیر تنہاؔ ہیں
تم ہمارے بنا ادھوری ہو

0
157
ہمیں تو ہر دم خیال تیرا، گمان تیرا ہے خواب تیرا
خدا ہی جانے کب آئے قاصد، خدا ہی جانے جواب تیرا

0
180
کچی کلیاں کچل نہیں سکتا
کیا کروں میں مچل نہیں سکتا

0
177
ایک دیکھی ہے بے حسی میں نے
چھوڑ دی آپ کی گلی میں نے

0
143
ترچھی نگاہ اس مرے غفلت شعار کی
چبھتی ہے دل میں زہر زدہ تیر کی طرح

0
194
راہِ عشق میں تنہاؔ! چارہ گر نہیں ہوتے
ہول و وحشت انگیزی، خوف و ڈر نہیں ہوتے

0
194
حسین کہیے اسے یا حسین تر کہیے
کہیں خفا ہی نہ ہو جائے کچھ اگر کہیے
قیام گاہ، تصور کوئی درست نہیں
قیام گاہ کو دو چار روز گھر کہیے
شبِ وصال کہیں وہ مری جھجک کو شرم
جھجک جھجک رہے یا شرم، آپ ڈر کہیے

0
99
مرا شباب ڈھل گیا
مرا گلاب جل گیا
زمانہ ہی بدل گیا
بدل گیا، بدل گیا
وہ میرا آشنا تھا جو
وہ میرا مبتلا تھا جو

0
120
تیری تصویر تک نہیں پہنچے
اپنی تقدیر تک نہیں پہنچے
دل محلے جو کرنے تھے آباد
کبھی تعمیر تک نہیں پہنچے
سینہ محسوس کر رہا ہے چبھن
دل جگر تیر تک نہیں پہنچے

0
147
جو بھی ہے مجھ کو اپنی ذات سے ہے
میرا گھر دُور کائنات سے ہے
واسطہ تو پکڑ کا باعث ہے
چھوٹ اگر ہے تو بس نجات سے ہے
بات میں ورنہ کوئی بات نہیں
بات جو بات ہے سو بات سے ہے

0
151
ہر کوئی راز محبت کا چھپاتا ہے میاں!
چیر کر دل بھی کوئی زخم دِکھاتا ہے میاں!

0
165
دکھ نیا دو، ہجر کو میرے سجاؤ
دل میں رہ کر خواب میں ڈالو پڑاؤ
موسمِ گُل، رحمتِ یزدان ہے
گیسوؤں میں خوب سے گجرے لگاؤ
آنکھیں موندے ہوں، جدائی کا ہے خوف
وصل کی شب ہے، مرا گھونگھٹ اٹھاؤ

0
197
زندہ رہنے کا ہمیں کوئی بہانہ دے دو
گوشۂ زلفِ معطر میں ٹھکانہ دے دو

0
169
تیری تصویر چھپا رکھی ہے آنکھوں کی نظر سے
دیکھنی بھی نہیں اب اور جلانی بھی نہیں

0
206
دیارِ غیر میں رہنے سے ڈر نہیں لگتا
یہ میرا گھر مجھے اب میرا گھر نہیں لگتا

0
147
معاشرے کی روایت حیا سے جیت گئی
جہیز بن نہ سکا اور عمر بیت گئی

0
123
اُس کی یادوں کے مقامات جدھر آتے ہیں
اپنے ٹوٹے ہوئے سپنے وہاں دھر آتے ہیں
جب کبھی لعل لبِ یار کا آتا ہے خیال
اشک خونیں مری آنکھوں میں اتر آتے ہیں
دیکھ لیں ہم بھی ذرا ضبطِ دلِ سخت، دِکھا
دل لبھانے کے تجھے سخت ہنر آتے ہیں

0
133
”جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا کسی خدا نے کائنات کی تخلیق کی ہے تو میں ان سے کہتا ہوں کہ اس سوال کا خود کوئی معنی نہیں ہے۔ بڑے دھماکے سے پہلے وقت موجود نہیں تھا، لہذا خدا کے لئے کائنات کو بنانے کا کوئی وقت نہیں ہے۔ یہ زمین کے کنارے کی سمت پوچھنے کی طرح ہے۔ زمین ایک دائرہ ہے۔ اس کے کنارے نہیں ہیں۔ لہذا اس کی تلاش کرنا ایک بیکار مشق ہے۔ ہم ہر ایک کو اپنی مرضی کے مطابق ماننے کے لئے آزاد ہیں اور یہ میرا نظریہ ہے کہ آسان وضاحت ہے۔ کوئی خدا نہیں ہے۔ کسی نے بھی ہماری کائنات کو پیدا نہیں کیا اور نہ ہی کوئی ہماری قسمت کی ہدایت کرتا ہے۔ اس سے مجھے ایک گہرا احساس حاصل ہوتا ہے۔ شائد کوئی جنت نہیں اور نہ ہی کوئی آخرت۔ ہمارے پاس کائنات کے عظیم الشان ڈیزائن کی تعریف کرنے کے لئے یہ ایک زندگی ہے اور اس کے لئے میں بہت شکر گزار ہوں۔“سٹیفن ہاکنگمعزز احباب! آئیے سٹیفن ہاکنگ کی اس تحریر کو مذہبی و معاشرتی بنیادوں سے ہٹ کر خالص عقل کی کسوٹی پر پرکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔پہلا سوال: کیا کسی خدا نے کائنات کی تخلیق کی ہے؟ممکنہ جوابات:(1) ہاں(2) نہیں(3) ہو سکتا اور نہیں بھی(4) ”اس سوال کا خود کوئی معنی نہیں“(1) کائنات کی وسعت

0
1
162
زندگی کا گلا مروڑ دیا
تیرا شکوہ بھی ہم نے چھوڑ دیا
آخری جام تھا ہمارے ہاتھ
ہم نے وہ آخری بھی توڑ دیا
جب بھی آیا سوال بوسے کا
آپ حضرت نے منہ بسوڑ دیا

0
187
خدا نے حشر میں غم کا مرے شمار کیا
کروڑ سال خلائق نے انتظار کیا

0
172
افطاری کی خاطر شربت گھولے ہیں
لبِ شیریں نے اس کے امرت گھولے ہیں

0
211
”شاعر جب اپنے کلام کے جواب میں واہ واہ سنتا ہے تو سمجھتا ہے شاید لوگ مذاق کر رہے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں شاید شاعر مذاق کر رہا ہے“

157
اوّل آخر تنہاؔ
بیچ میں آئی دنیا

0
180
ہکّو چولا خدمت والا جُسّے وانگ ہنڈا
اپنڑے دُکھڑے بُھل ونج تنہاؔ! ہورِیں درد ونڈا

0
149
جانِ جاں دشمنِ جانی نکلی
تُو تو شیطان کی نانی نکلی
میں فلانی کا فلانا نکلا
تُو فلانے کی فلانی نکلی
تجھے ہونٹوں کا تبسم جانا
تُو ذلیل آنکھ کا پانی نکلی

216
بس اتنی بات تھی
اک دن
اسے اس کے کسی اک آشنا نے
دور سے آواز دی تھی اور
وگرنہ وہ تو مجھ سے ملنے والی تھی
اسے میں نے بلایا تھا

0
142
”ہم ایسے فحاش لوگ ہیں کہ اگر بہن بھائی کو بھی بازار میں ایک ساتھ دیکھ لیں تو اپنی دماغی لیبارٹری سے زنا کی ریپورٹ مثبت نکال دیتے ہیں“

0
4
201
شبِ ہوس کبھی تنہاؔ کہیں گزار کے دیکھ
بدن سے پیرہن اپنا ذرا اتار کے دیکھ

0
147
تمھارے بوسے مچھر لے رہے ہیں
ہمارے حق پہ ڈاکا ڈل رہا ہے

0
118
ایپی لپسی (Epilepsy) نے بیج بونا تھا
تم سے بچھڑے تھے، کچھ تو ہونا تھا

0
181
اک صورتِ خانہ جنگی ہے
میں ننگا ہوں، تُو ننگی ہے

0
122
پیلے پیلے زرد پھول
بن گئے ہیں درد پھول

0
184
جستجو سے خدا ملے گا کیا
مجھ پہ در ساتواں کھلے گا کیا
کیا کِھسانے پڑیں گے پاؤں مجھے
سوچ کا گُھڑ سفر کرے گا کیا
کیا ہمارے بدن جلانے سے
آپ کا یہ دیا جلے گا کیا

0
146
سانس لیتے ہیں اور جیتے ہیں
داغ کھاتے ہیں، اشک پیتے ہیں

0
163
میں اپنا آپ ڈبو بیٹھا
میں عاشق یار کا ہو بیٹھا
میں ساری سُدھ بُدھ کھو بیٹھا
میں آنسو آنسو رو بیٹھا
مجھے آئی شرم گناہوں پر
میں پھرتا رہا درگاہوں پر

0
205
وصل میں کچھ نہ بنا، رخ پہ لیے بال ہی ڈال
بے لباسی میں بھی اس کو رہا پردے کا خیال
مان اگر بات تو اس زلف کو بس کاٹ ہی ڈال
ایسا زہریلا، کہیں کاٹ نہ لے، سانپ نہ پال
داغدار اس کا ہے چہرہ، ترا چہرہ بے داغ
سو مناسب ہی نہیں چاند کو دیں تجھ سے مثال

0
121
گل قند کیا دوا ہے، میں قربان پھول پر
رس بھر دے رکھ کے رس بھرے پستان پھول پر
کانٹا ہوئے ہیں سوکھ کر اس گل کے غم میں ہم
طاقت نہیں کہ باندھیے عنوان پھول پر
کیا آئینہ سا باغ کو نکلا جفا شعار
حیران ہوں میں، پھول بھی حیران پھول پر

0
198
میرا رونا ہے زندگی بھر کا
حشر طاری ہے مجھ پہ محشر کا
سخت ناداں تھے جو خدا سمجھے
کافر اک بت تھا، بت بھی پتھر کا
آنکھ اٹھتی نہیں ہے ظالم کی
وار چلتا ہے دل پہ خنجر کا

0
162
ساقی! ترے مے خانے کی ہے بات ہی اب اور
چلتے ہیں، گزاریں گے کہیں رات ہی اب اور
”جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے“
”کیا خوب“ کہیں ہو گی ملاقات ہی اب اور
جانے کو ہے تیار ہمارا تو جنازہ
لائے گا تری پھر کوئی بارات ہی اب اور

0
103
تیری مہندی نکھار لاتی ہے
روز دو چار مار لاتی ہے
اتنا نزدیک بھی نہ آیا کر
تیری قربت بخار لاتی ہے
اور الزام ہے شراب کے سر
ِچشمِ ساقی خمار لاتی ہے

0
284