تقطیع
اصلاح
اشاعت
منتخب
مضامین
بلاگ
رجسٹر
داخلہ
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
25 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
دستور یار کی بستی کے نرالے دیکھے
اہلِ وفا جہاں زنداں کے حوالے دیکھے
سب رحم کی اپیلیں ہم نے بے سود دیکھیں
منصف ہی سارے اس کے گُن گانے والے دیکھے
رشتوں کی کیمیا کا یہ فارمولا دیکھا
خوں جو سفید دیکھے تو دل ہیں کالے دیکھے
دستور یار کی بستی کے نرالے دیکھے
0
1
25 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
کاسہ لیسوں کے سروں پر تاج دیکھے
تخت پر ہم نے مداری راج دیکھے
ہاتھوں سے جن کے ہوئے مسند نشیں لوگ
ہاتھوں سے اُن ہی کے وہ تاراج دیکھے
آستینوں میں پلے سانپوں سے ہم نے
دودھ پی کر زہر کے اخراج دیکھے
کاسہ لیسوں کے سروں پر تاج دیکھے
0
25 اگست 2026
نثری نظم
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
مسافرو۔۔۔!
دبے پاؤں گزر جاؤ
اِس دشتِ خرد فرسا سے
طلسمِ ہوش رُبا سے
جہاں یہ افواہ گردش میں ہے
کہ لوگ بھٹک جاتے ہیں
انتباہ!
0
1
24 اگست 2026
قطعہ
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
میں دہائی دے دے کر ٹُوٹ ہی گیا آخر
اور تم بھی دھیرے دھیرے سے مر گئے مجھ میں
حادثے! تصور بھی تھا محال جن کا وہ
پیش آ کے خاموشی سے گزر گئے مجھ میں
میں دہائی دے دے کر ٹُوٹ ہی گیا آخر
0
6
24 اگست 2026
شعر
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
تیری انا کے قدموں سے پہلے
میں اپنی ہی نظروں سے گِرا ہوں
شعر
0
4
24 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
تُو مجھ سے اب جدا ہی بہتر
اِک دوجے سے ہم خفا ہی بہتر
چاہت قربت میں گھٹ نہ جائے
ہم میں کچھ فاصلہ ہی بہتر
دیں کیا ہر بات پر صفائی؟
اِس سے ہم بے وفا ہی بہتر!
تُو مجھ سے اب جدا ہی بہتر
0
4
24 اگست 2026
نثری نظم
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
محبت۔۔۔!
وہ شمشان گھاٹ ہے جہاں
انتم سنسکار کے بعد بھی
چتائیں راکھ نہیں ہوتیں
آشائیں خاک نہیں ہوتیں۔۔۔
محبت
0
4
24 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
پوچھ مت ناتواں دل کو کیا کیا ہُوا
سامنا جب کبھی تجھ سے میرا ہُوا
کوئی آیا ہو گا کھڑکی میں بے حجاب
چاند کو رستہ گھر کا ہے بھُولا ہُوا
وہ ہَوا ہو گیا آگ بھڑکا کے اور
میں اُسی آگ میں تب سے جلتا ہُوا
پوچھ مت ناتواں دل کو کیا کیا ہُوا
0
6
24 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
یہ معمّہ نہ حل ہو سکا آج تک
مجھ سے کس بات پر وہ خفا، آج تک
وہ محبت تھی یا جرم کوئی مِرا
کاٹ جس کی رہا ہوں سزا آج تک
بعد اُس کے یہ گلشن بھی اُجڑ گیا
لوٹ کے پھر نہ آئی صبا آج تک
یہ معمّہ نہ حل ہو سکا آج تک
0
4
24 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
دید تیری کے طلب گار بنے بیٹھے ہیں
اِک تماشا سرِ بازار بنے بیٹھے ہیں
دیکھتے لوگ تِرے شہر کے یوں ہیں جیسے
ہم کسی راہ کی دیوار بنے بیٹھے ہیں
سمجھیں گے کیا یہ محبت کو ہوس کے مارے
نظروں میں جن کی گنہگار بنے بیٹھے ہیں
دید تیری کے طلب گار بنے بیٹھے ہیں
0
4
24 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
نام کے بڑے پر کردار کے تھے چھوٹے لوگ
ہم کو زندگی بھر ملتے رہے کچھ ایسے لوگ
ایک دوجے سے مخلص تھے بنا کسی مطلب
سادہ لوح تھے کتنے ہائے وہ پرانے لوگ
اِک فریب میں ساری عمر کاٹ دی اپنی
کھوئے ہم نے کانٹوں کی کھوج میں نگینے لوگ
نام کے بڑے پر کردار کے تھے چھوٹے لوگ
0
5
24 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
جذبات کی سب طغیانی ختم، کہانی ختم!
دریا ہوئے بنجر، پانی ختم، روانی ختم!
عفریت نگل لے گا یہ وقت کا، تیرا حُسن
کچھ دن ہیں فقط، پھر اُس کے بعد جوانی ختم!
یوں کون سہے گا میرے بعد ستم تیرے؟
جب میں نہ رہا، تب جانی! بات پرانی ختم!
جذبات کی سب طغیانی ختم، کہانی ختم!
0
6
24 اگست 2026
قطعہ
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
دید سے جس کی مِری دنیا تھی آباد
گھر کا اُس کے فالتو سامان تھا میں!
وہ زیادہ ردّی سے سمجھا نہ مجھ کو
مجھ کو لگتا تھا کہ اُس کا مان تھا میں!
دید سے جس کی مِری دنیا تھی آباد
0
5
24 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
شعلہ کوئی جل بجھا! کچھ تو ہُوا ہے
حشر سا ہے اِک بپا! کچھ تو ہُوا ہے
اُڑ رہی ہے راکھ یہ کس کی چتا سے؟
کیوں دھواں سی ہے فضا! کچھ تو ہُوا ہے
مانگ تاروں سے منور رات کی تھی
بجھ چکی ہے اب ضیا! کچھ تو ہُوا ہے
شعلہ کوئی جل بجھا! کچھ تو ہُوا ہے
0
5
24 اگست 2026
نثری نظم
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
حبس زدہ شاموں کے زنداں میں
غمِ روزگار کے اسیروں نے
اپنی مٹّی کی مہک سے رچے
کتنے ہی موسم کھو دئیے
برستے ہوئے ساون کھو دئیے!
خلیج
0
2
24 اگست 2026
شعر
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
نزع کا آخری اِک سچ سنو گے؟
مجھے تم سے محبت ہو گئی تھی!
اقبالِ جرم
0
5
24 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
قیس جب کسی لیلیٰ کا نشانے پر دیکھا
ہر تماش بیں کو پتھر لیے اُدھر دیکھا
دیکھا تھا جنہیں شامل رسمِ سنگ باری میں
اُنہی پارساؤں کا اپنا شیشہ گھر دیکھا
کھینچ لینے کا رہبر کو زمیں تھا فن اپنے
ہم نے پا کے منزل بھی خود کو دربدر دیکھا
قیس جب کسی لیلیٰ کا نشانے پر دیکھا
0
4
24 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
رُخ پر جمال، زُلفوں میں خم نہیں رہے گا
تجھ پر بہار کا یہ موسم نہیں رہے گا
اِک وقت آئے گا، یہ بھی بھول جائے گا سب
اِس دل کو بے وفا تیرا غم نہیں رہے گا
جذبات سارے پتھر ہو جائیں گے کسی روز
آخر شکستہ سینے میں دم نہیں رہے گا
رُخ پر جمال، زُلفوں میں خم نہیں رہے گا
0
9
24 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
کیوں سانس اِس ہوا میں دشوار لگتا ہے؟
اِک بوڑھے پیڑ پر کاری وار لگتا ہے
وہ اور زمانے تھے جب آنکھوں میں تھی حیا
اب تو تماشوں کا اِک بازار لگتا ہے
ڈرتا نہیں ہے اب ویرانوں سے آدمی
انساں درندوں سے اب خوں خوار لگتا ہے
کیوں سانس اِس ہوا میں دشوار لگتا ہے؟
0
3
24 اگست 2026
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
رستہ گزر چلا، وہی منظر ٹھہر گیا
تُو جس مقام پر مِرے رہبر ٹھہر گیا
تم اور ہم وہی، جدا راہوں کا غم وہی
اِک سانحہ عجب تھا، گزر کر ٹھہر گیا
باقی ہے یوں تِری ہنسی میرے چہار سُو
آسیب کوئی جیسے مِرے گھر ٹھہر گیا
رستہ گزر چلا، وہی منظر ٹھہر گیا
0
7
9 ستمبر 2020
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
وبا سے بچ گئے تو یہ جدائی مار ڈالے گی
دیارِ غیر سے گھر تک رسائی مار ڈالے گی
اجل سے تو مسیحا پھر بھی کچھ امیدِ مہلت ہے
مگر بیمار کو تیری خدائی مار ڈالے گی
تراشے ان پروں سے یہ کہاں تک کر لے گا پرواز ؟
پرندے کو قفس سے اب رہائی مار ڈالے گی!
وبا سے بچ گئے تو یہ جدائی مار ڈالے گی
0
294
2 ستمبر 2020
شعر
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
محبت کی تھی تو قیامت کی تھی
ہوئے پھر جو برباد، عبرت ہوئے
شعر
0
140
19 اگست 2020
شعر
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
تمھارے بعد اب آفت زدہ کہے گی یہ دنیا
تو آخری حوالہ تھا مِرے بھلے زمانوں کا
شعر
2
111
16 اگست 2020
غزل
محمد نوید خرم
@NaveedKhuram
نسلوں کی فطرت کے قانون کی مجبوری ہے
ڈسنا بھی ان سانپوں کے خون کی مجبوری ہے
شوق ہے کس کو بھٹکنے کا ایسے دربدر
یہ جلا وطنی تو مجنون کی مجبوری ہے
تجھ سِوا یہ داستاں نامکمل ہے مِری
ذکر تیرا میرے مضمون کی مجبوری ہے
نسلوں کی فطرت کے قانون کی مجبوری ہے
2
181
معلومات