Circle Image

محمد نوید خرم

@NaveedKhuram

دستور یار کی بستی کے نرالے دیکھے
اہلِ وفا جہاں زنداں کے حوالے دیکھے
سب رحم کی اپیلیں ہم نے بے سود دیکھیں
منصف ہی سارے اس کے گُن گانے والے دیکھے
رشتوں کی کیمیا کا یہ فارمولا دیکھا
خوں جو سفید دیکھے تو دل ہیں کالے دیکھے

0
1
کاسہ لیسوں کے سروں پر تاج دیکھے
تخت پر ہم نے مداری راج دیکھے
ہاتھوں سے جن کے ہوئے مسند نشیں لوگ
ہاتھوں سے اُن ہی کے وہ تاراج دیکھے
آستینوں میں پلے سانپوں سے ہم نے
دودھ پی کر زہر کے اخراج دیکھے

0
مسافرو۔۔۔!
دبے پاؤں گزر جاؤ
اِس دشتِ خرد فرسا سے
طلسمِ ہوش رُبا سے
جہاں یہ افواہ گردش میں ہے
کہ لوگ بھٹک جاتے ہیں

0
1
میں دہائی دے دے کر ٹُوٹ ہی گیا آخر
اور تم بھی دھیرے دھیرے سے مر گئے مجھ میں
حادثے! تصور بھی تھا محال جن کا وہ
پیش آ کے خاموشی سے گزر گئے مجھ میں

0
6
تیری انا کے قدموں سے پہلے
میں اپنی ہی نظروں سے گِرا ہوں

0
4
تُو مجھ سے اب جدا ہی بہتر
اِک دوجے سے ہم خفا ہی بہتر
چاہت قربت میں گھٹ نہ جائے
ہم میں کچھ فاصلہ ہی بہتر
دیں کیا ہر بات پر صفائی؟
اِس سے ہم بے وفا ہی بہتر!

0
4
محبت۔۔۔!
وہ شمشان گھاٹ ہے جہاں
انتم سنسکار کے بعد بھی
چتائیں راکھ نہیں ہوتیں
آشائیں خاک نہیں ہوتیں۔۔۔

0
4
پوچھ مت ناتواں دل کو کیا کیا ہُوا
سامنا جب کبھی تجھ سے میرا ہُوا
کوئی آیا ہو گا کھڑکی میں بے حجاب
چاند کو رستہ گھر کا ہے بھُولا ہُوا
وہ ہَوا ہو گیا آگ بھڑکا کے اور
میں اُسی آگ میں تب سے جلتا ہُوا

0
6
یہ معمّہ نہ حل ہو سکا آج تک
مجھ سے کس بات پر وہ خفا، آج تک
وہ محبت تھی یا جرم کوئی مِرا
کاٹ جس کی رہا ہوں سزا آج تک
بعد اُس کے یہ گلشن بھی اُجڑ گیا
لوٹ کے پھر نہ آئی صبا آج تک

0
4
دید تیری کے طلب گار بنے بیٹھے ہیں
اِک تماشا سرِ بازار بنے بیٹھے ہیں
دیکھتے لوگ تِرے شہر کے یوں ہیں جیسے
ہم کسی راہ کی دیوار بنے بیٹھے ہیں
سمجھیں گے کیا یہ محبت کو ہوس کے مارے
نظروں میں جن کی گنہگار بنے بیٹھے ہیں

0
4
نام کے بڑے پر کردار کے تھے چھوٹے لوگ
ہم کو زندگی بھر ملتے رہے کچھ ایسے لوگ
ایک دوجے سے مخلص تھے بنا کسی مطلب
سادہ لوح تھے کتنے ہائے وہ پرانے لوگ
اِک فریب میں ساری عمر کاٹ دی اپنی
کھوئے ہم نے کانٹوں کی کھوج میں نگینے لوگ

0
5
جذبات کی سب طغیانی ختم، کہانی ختم!
دریا ہوئے بنجر، پانی ختم، روانی ختم!
عفریت نگل لے گا یہ وقت کا، تیرا حُسن
کچھ دن ہیں فقط، پھر اُس کے بعد جوانی ختم!
یوں کون سہے گا میرے بعد ستم تیرے؟
جب میں نہ رہا، تب جانی! بات پرانی ختم!

0
6
دید سے جس کی مِری دنیا تھی آباد
گھر کا اُس کے فالتو سامان تھا میں!
وہ زیادہ ردّی سے سمجھا نہ مجھ کو
مجھ کو لگتا تھا کہ اُس کا مان تھا میں!

0
5
شعلہ کوئی جل بجھا! کچھ تو ہُوا ہے
حشر سا ہے اِک بپا! کچھ تو ہُوا ہے
اُڑ رہی ہے راکھ یہ کس کی چتا سے؟
کیوں دھواں سی ہے فضا! کچھ تو ہُوا ہے
مانگ تاروں سے منور رات کی تھی
بجھ چکی ہے اب ضیا! کچھ تو ہُوا ہے

0
5
حبس زدہ شاموں کے زنداں میں
غمِ روزگار کے اسیروں نے
اپنی مٹّی کی مہک سے رچے
کتنے ہی موسم کھو دئیے
برستے ہوئے ساون کھو دئیے!

0
2
نزع کا آخری اِک سچ سنو گے؟
مجھے تم سے محبت ہو گئی تھی!

0
5
قیس جب کسی لیلیٰ کا نشانے پر دیکھا
ہر تماش بیں کو پتھر لیے اُدھر دیکھا
دیکھا تھا جنہیں شامل رسمِ سنگ باری میں
اُنہی پارساؤں کا اپنا شیشہ گھر دیکھا
کھینچ لینے کا رہبر کو زمیں تھا فن اپنے
ہم نے پا کے منزل بھی خود کو دربدر دیکھا

0
4
رُخ پر جمال، زُلفوں میں خم نہیں رہے گا
تجھ پر بہار کا یہ موسم نہیں رہے گا
اِک وقت آئے گا، یہ بھی بھول جائے گا سب
اِس دل کو بے وفا تیرا غم نہیں رہے گا
جذبات سارے پتھر ہو جائیں گے کسی روز
آخر شکستہ سینے میں دم نہیں رہے گا

0
9
کیوں سانس اِس ہوا میں دشوار لگتا ہے؟
اِک بوڑھے پیڑ پر کاری وار لگتا ہے
وہ اور زمانے تھے جب آنکھوں میں تھی حیا
اب تو تماشوں کا اِک بازار لگتا ہے
ڈرتا نہیں ہے اب ویرانوں سے آدمی
انساں درندوں سے اب خوں خوار لگتا ہے

0
3
رستہ گزر چلا، وہی منظر ٹھہر گیا
تُو جس مقام پر مِرے رہبر ٹھہر گیا
تم اور ہم وہی، جدا راہوں کا غم وہی
اِک سانحہ عجب تھا، گزر کر ٹھہر گیا
باقی ہے یوں تِری ہنسی میرے چہار سُو
آسیب کوئی جیسے مِرے گھر ٹھہر گیا

0
7
وبا سے بچ گئے تو یہ جدائی مار ڈالے گی
دیارِ غیر سے گھر تک رسائی مار ڈالے گی
اجل سے تو مسیحا پھر بھی کچھ امیدِ مہلت ہے
مگر بیمار کو تیری خدائی مار ڈالے گی
تراشے ان پروں سے یہ کہاں تک کر لے گا پرواز ؟
پرندے کو قفس سے اب رہائی مار ڈالے گی!

0
294
محبت کی تھی تو قیامت کی تھی
ہوئے پھر جو برباد، عبرت ہوئے

0
140
تمھارے بعد اب آفت زدہ کہے گی یہ دنیا
تو آخری حوالہ تھا مِرے بھلے زمانوں کا

111
نسلوں کی فطرت کے قانون کی مجبوری ہے
ڈسنا بھی ان سانپوں کے خون کی مجبوری ہے
شوق ہے کس کو بھٹکنے کا ایسے دربدر
یہ جلا وطنی تو مجنون کی مجبوری ہے
تجھ سِوا یہ داستاں نامکمل ہے مِری
ذکر تیرا میرے مضمون کی مجبوری ہے

181