پوچھ مت ناتواں دل کو کیا کیا ہُوا
سامنا جب کبھی تجھ سے میرا ہُوا
کوئی آیا ہو گا کھڑکی میں بے حجاب
چاند کو رستہ گھر کا ہے بھُولا ہُوا
وہ ہَوا ہو گیا آگ بھڑکا کے اور
میں اُسی آگ میں تب سے جلتا ہُوا
لوگ بستی کے شاید تھے اندھے سبھی
سُولی پر اِک مسیحا تھا لٹکا ہُوا
کیا خزانوں سے چہرے بزرگوں کے تھے
اب تو دیکھے بھی اُن کو زمانہ ہُوا
کون سا غم لے ڈوبا ہے تجھ کو نوید؟
کیوں ہے گم صم ہو کر ایسے بیٹھا ہوا

0
3