| جذبات کی سب طغیانی ختم، کہانی ختم! |
| دریا ہوئے بنجر، پانی ختم، روانی ختم! |
| عفریت نگل لے گا یہ وقت کا، تیرا حُسن |
| کچھ دن ہیں فقط، پھر اُس کے بعد جوانی ختم! |
| یوں کون سہے گا میرے بعد ستم تیرے؟ |
| جب میں نہ رہا، تب جانی! بات پرانی ختم! |
| یادیں تِری میرا پیچھا چھوڑ دیں گی آخر |
| اِن سانسوں کی آنی جانی ختم، کہانی ختم! |
| لگ جائے گی چُپ تجھ کو بھی میری طرح اِک روز |
| اِس عشق کے زنداں میں سب شعلہ بیانی ختم! |
معلومات