حبس زدہ شاموں کے زنداں میں
غمِ روزگار کے اسیروں نے
اپنی مٹّی کی مہک سے رچے
کتنے ہی موسم کھو دئیے
برستے ہوئے ساون کھو دئیے!

0
1