| تُو مجھ سے اب جدا ہی بہتر |
| اِک دوجے سے ہم خفا ہی بہتر |
| چاہت قربت میں گھٹ نہ جائے |
| ہم میں کچھ فاصلہ ہی بہتر |
| دیں کیا ہر بات پر صفائی؟ |
| اِس سے ہم بے وفا ہی بہتر! |
| یہ عاشق سنگ سار کر دو |
| یہ رسم بھی اب ادا ہی بہتر |
| گر تُو خوش میری ہار سے ہے |
| میں پھر ہارا ہُوا ہی بہتر |
معلومات