تُو مجھ سے اب جدا ہی بہتر
اِک دوجے سے ہم خفا ہی بہتر
چاہت قربت میں گھٹ نہ جائے
ہم میں کچھ فاصلہ ہی بہتر
دیں کیا ہر بات پر صفائی؟
اِس سے ہم بے وفا ہی بہتر!
یہ عاشق سنگ سار کر دو
یہ رسم بھی اب ادا ہی بہتر
گر تُو خوش میری ہار سے ہے
میں پھر ہارا ہُوا ہی بہتر

0
1