قیس جب کسی لیلیٰ کا نشانے پر دیکھا
ہر تماش بیں کو پتھر لیے اُدھر دیکھا
دیکھا تھا جنہیں شامل رسمِ سنگ باری میں
اُنہی پارساؤں کا اپنا شیشہ گھر دیکھا
کھینچ لینے کا رہبر کو زمیں تھا فن اپنے
ہم نے پا کے منزل بھی خود کو دربدر دیکھا
بچ سکا نہ اُس کی آنکھوں کے کالے جادو سے
ایک ساحرہ نے جس کو بھی اِک نظر دیکھا
اِک اشارے پر جو بازی پلٹ دیا کرتا
مات عشق میں ہوتا وہ بھی بازی گر دیکھا

0
2