رستہ گزر چلا، وہی منظر ٹھہر گیا
تُو جس مقام پر مِرے رہبر ٹھہر گیا
تم اور ہم وہی، جدا راہوں کا غم وہی
اِک سانحہ عجب تھا، گزر کر ٹھہر گیا
باقی ہے یوں تِری ہنسی میرے چہار سُو
آسیب کوئی جیسے مِرے گھر ٹھہر گیا
جکڑا یہ کس طلسم نے مجھ کو کہ تیرے بعد
جتنا چلا میں، آ کے وہیں پر ٹھہر گیا
دیکھو جو لوٹ سکتے ہو تو یار لوٹ آؤ
کمبخت دل یہ تم ہی پہ آ کر ٹھہر گیا

0
5