| رستہ گزر چلا، وہی منظر ٹھہر گیا |
| تُو جس مقام پر مِرے رہبر ٹھہر گیا |
| تم اور ہم وہی، جدا راہوں کا غم وہی |
| اِک سانحہ عجب تھا، گزر کر ٹھہر گیا |
| باقی ہے یوں تِری ہنسی میرے چہار سُو |
| آسیب کوئی جیسے مِرے گھر ٹھہر گیا |
| جکڑا یہ کس طلسم نے مجھ کو کہ تیرے بعد |
| جتنا چلا میں، آ کے وہیں پر ٹھہر گیا |
| دیکھو جو لوٹ سکتے ہو تو یار لوٹ آؤ |
| کمبخت دل یہ تم ہی پہ آ کر ٹھہر گیا |
معلومات