| وبا سے بچ گئے تو یہ جدائی مار ڈالے گی |
| دیارِ غیر سے گھر تک رسائی مار ڈالے گی |
| اجل سے تو مسیحا پھر بھی کچھ امیدِ مہلت ہے |
| مگر بیمار کو تیری خدائی مار ڈالے گی |
| تراشے ان پروں سے یہ کہاں تک کر لے گا پرواز ؟ |
| پرندے کو قفس سے اب رہائی مار ڈالے گی! |
| حوادث سے بھی بچ ہی جائیں ہم شاید کسی صورت |
| یوں لیکن یار تیری کج ادائی مار ڈالے گی |
| نہیں ہے زور جن کا دل پہ اپنے گھر سے مت نکلیں |
| بلائے عشق ہے، یہ جس پہ آئی مار ڈالے گی |
معلومات