وبا سے بچ گئے تو یہ جدائی مار ڈالے گی
دیارِ غیر سے گھر تک رسائی مار ڈالے گی
اجل سے تو مسیحا پھر بھی کچھ امیدِ مہلت ہے
مگر بیمار کو تیری خدائی مار ڈالے گی
تراشے ان پروں سے یہ کہاں تک کر لے گا پرواز ؟
پرندے کو قفس سے اب رہائی مار ڈالے گی!
حوادث سے بھی بچ ہی جائیں ہم شاید کسی صورت
یوں لیکن یار تیری کج ادائی مار ڈالے گی
نہیں ہے زور جن کا دل پہ اپنے گھر سے مت نکلیں
بلائے عشق ہے، یہ جس پہ آئی مار ڈالے گی

0
294