کیوں سانس اِس ہوا میں دشوار لگتا ہے؟
اِک بوڑھے پیڑ پر کاری وار لگتا ہے
وہ اور زمانے تھے جب آنکھوں میں تھی حیا
اب تو تماشوں کا اِک بازار لگتا ہے
ڈرتا نہیں ہے اب ویرانوں سے آدمی
انساں درندوں سے اب خوں خوار لگتا ہے
جن کے لیے سہی ہر تکلیف، اب وہ شخص
اُن ہی کو بوجھ، ہو کر بیمار لگتا ہے
یا رب! ہو رحم میرے اِس ملک پر جہاں
ہر بندہ تیرا خود سے بیزار لگتا ہے

0
3