نام کے بڑے پر کردار کے تھے چھوٹے لوگ
ہم کو زندگی بھر ملتے رہے کچھ ایسے لوگ
ایک دوجے سے مخلص تھے بنا کسی مطلب
سادہ لوح تھے کتنے ہائے وہ پرانے لوگ
اِک فریب میں ساری عمر کاٹ دی اپنی
کھوئے ہم نے کانٹوں کی کھوج میں نگینے لوگ
کتنی خوش گمانی تھی، یاد آئیں گے اُس کو
بوجھ کہہ گیا جو خود پر ہمارے جیسے لوگ
مات جب دی دشمن کو ہر محاذ پر ہم نے
پھر ملے محبت سے چالیں چلنے والے لوگ
ہم قبیلے کے عزت دار آدمی تھے پر
بات یہ نہ سمجھے باہر کے کچھ کمینے لوگ

0