شعلہ کوئی جل بجھا! کچھ تو ہُوا ہے
حشر سا ہے اِک بپا! کچھ تو ہُوا ہے
اُڑ رہی ہے راکھ یہ کس کی چتا سے؟
کیوں دھواں سی ہے فضا! کچھ تو ہُوا ہے
مانگ تاروں سے منور رات کی تھی
بجھ چکی ہے اب ضیا! کچھ تو ہُوا ہے
شہر جو آباد تھا دل کی زمیں پر
بن کھنڈر ویراں پڑا! کچھ تو ہُوا ہے
تیرے پھیلے ہاتھوں پر حیران ہوں میں
شیخ کے لب پر دعا! کچھ تو ہُوا ہے

0
4