رُخ پر جمال، زُلفوں میں خم نہیں رہے گا
تجھ پر بہار کا یہ موسم نہیں رہے گا
اِک وقت آئے گا، یہ بھی بھول جائے گا سب
اِس دل کو بے وفا تیرا غم نہیں رہے گا
جذبات سارے پتھر ہو جائیں گے کسی روز
آخر شکستہ سینے میں دم نہیں رہے گا
دو چار دن ہیں، پھر ہو گا کون یاد کس کو؟
اب عمر بھر تو ایسے ماتم نہیں رہے گا!
کوئی پتہ کرے گا کب حال بھی ہمارا
مطلب نکل گیا، تُو ہم دم نہیں رہے گا

0
3