یہ معمّہ نہ حل ہو سکا آج تک
مجھ سے کس بات پر وہ خفا، آج تک
وہ محبت تھی یا جرم کوئی مِرا
کاٹ جس کی رہا ہوں سزا آج تک
بعد اُس کے یہ گلشن بھی اُجڑ گیا
لوٹ کے پھر نہ آئی صبا آج تک
میں نے واپس پُکارا اُسے جب کبھی
پلٹی اپنی ہی خالی صدا آج تک
ہوں ازل سے اگر میں اُسی کا نوید!
کیوں نہ پھر بن سکا وہ مِرا آج تک

0
1