دید تیری کے طلب گار بنے بیٹھے ہیں
اِک تماشا سرِ بازار بنے بیٹھے ہیں
دیکھتے لوگ تِرے شہر کے یوں ہیں جیسے
ہم کسی راہ کی دیوار بنے بیٹھے ہیں
سمجھیں گے کیا یہ محبت کو ہوس کے مارے
نظروں میں جن کی گنہگار بنے بیٹھے ہیں
پڑھ لے تُو حال کسی روز ہمارا آ کر
رستوں پر تیرے ہم اخبار بنے بیٹھے ہیں
جادو سارا ہے مسیحا یہ تِری آنکھوں کا
سب شفا یاب بھی بیمار بنے بیٹھے ہیں

0