Circle Image

ہمراز ساجد

@sajica

چون شود اندیشهٔ قومی خراب
کاروانش گم شود در پیچ و تاب
از ضمیرش سوزِ جان‌سوز ار برود
نغمه‌اش گردد خموش و بی‌سرود
مرگِ ملّت از تزلزل در خودی است
پستی‌اش از سستی و از بیخودی است

0
قوم کی جب فکر ہو جائے خراب
کارواں اس کا رہے در پیچ و تاب
دل کے سینے سے اگر یہ سوز جائے
ساز کی ہر اک صدا خاموش پائے
موت ہے ملّت کی گر کھوئے خودی
پستی آتی ہے فقط بے جانگی

0
اپنے خواب مجھے دے دو
دل بے تاب مجھے دے دو
دیکھو نہ اس انداز سے تم
جامِ شراب مجھے دے دو
خوشیاں ساری تم رکھ لو
درد و عذاب مجھے دے دو

0
کہتا ہے مجھے ہند کے شملے کا سوامی
کیوں تو نے چنی اپنے ہی مذہب کی یہ خامی؟
معبود ترا ایک ہے، باطل ہیں خدا سب
چھوڑی نہ مگر تو نے فرنگی کی غلامی!
صورت میں نصاریٰ ہے، تمدن میں یہودیت
باقی نہ رہی تجھ میں وہ تہذیبِ گرامی

0
22
اغیار کے در پر کبھی دستک نہیں دیتے
اللہ کے بندوں کو سہارا ہے اسی کا
قرآں میں ثنا خواں ہیں فرشتے بھی مسلسل
عالم پہ عیاں مرتبہ و جود نبی کا
محتاج کسی غیر کے ہو سکتے نہیں ہم
جب فضل و کرم شاملِ جاں ہو ہی خدا کا

0
کیوں مجھ کو ڈراتے ہو سمندر کے تلاطم سے
پانی پہ رقم کوئی تحریر نہیں ہوں میں
طوفاں کی ہواؤں سے جو بجھ جائے سرِ ساحل
وہ شمعِ زبوں، وہ شبِ بے پیر نہیں ہوں میں
آزاد ہے فطرت مری ہر دام و قفص سے
جو پاؤں جکڑ لے، وہ زنجیر نہیں ہوں میں

0
کیا نارِ جہنم سے رکھا تم نے ہے یارانہ؟
ہر روز تراشتے ہو اک جھوٹ کا افسانہ!
اصحابِ پیمبرؐ تو ستاروں کے مماثل ہیں
ان نفوسِ مقدس کا ہر اہلِ یقیں دیوانہ
حق بات کو جھٹلا کر باطل کی طرف جانا
زیبا نہیں بنتا ہے یہ شیوۂ رندانہ

0
1
7
حاضر وہ یہاں بھی ہے اور اس کے نشاں وہاں بھی
گو آنکھ سے اوجھل ہے مگر ہے وہ عیاں بھی
رفعت میں ہے وہ خالقِ افلاک و معلیٰ
ہو پاس رگِ جاں کے، وہ دل کا ہے اماں بھی
پوشیدہ نہیں اس سے کوئی رازِ جہاں کا
سنتا ہے صدائیں وہ رہے کوئی جہاں بھی

0