تقطیع
اصلاح
اشاعت
منتخب
مضامین
بلاگ
رجسٹر
داخلہ
ہمراز ساجد
@sajica
23 ستمبر 2026
نظم
ہمراز ساجد
@sajica
چون شود اندیشهٔ قومی خراب
کاروانش گم شود در پیچ و تاب
از ضمیرش سوزِ جانسوز ار برود
نغمهاش گردد خموش و بیسرود
مرگِ ملّت از تزلزل در خودی است
پستیاش از سستی و از بیخودی است
زوالِ اندیشه و انحطاطِ ملّت
0
23 ستمبر 2026
نظم
ہمراز ساجد
@sajica
قوم کی جب فکر ہو جائے خراب
کارواں اس کا رہے در پیچ و تاب
دل کے سینے سے اگر یہ سوز جائے
ساز کی ہر اک صدا خاموش پائے
موت ہے ملّت کی گر کھوئے خودی
پستی آتی ہے فقط بے جانگی
قوم کی جب فکر ہو جائے خراب
0
8 مارچ 2023
رباعی
ہمراز ساجد
@sajica
اپنے خواب مجھے دے دو
دل بے تاب مجھے دے دو
دیکھو نہ اس انداز سے تم
جامِ شراب مجھے دے دو
خوشیاں ساری تم رکھ لو
درد و عذاب مجھے دے دو
اپنے خواب مجھے دے دو
0
6 جنوری 2023
رباعی
ہمراز ساجد
@sajica
کہتا ہے مجھے ہند کے شملے کا سوامی
کیوں تو نے چنی اپنے ہی مذہب کی یہ خامی؟
معبود ترا ایک ہے، باطل ہیں خدا سب
چھوڑی نہ مگر تو نے فرنگی کی غلامی!
صورت میں نصاریٰ ہے، تمدن میں یہودیت
باقی نہ رہی تجھ میں وہ تہذیبِ گرامی
سوامی
0
22
6 جنوری 2023
رباعی
ہمراز ساجد
@sajica
اغیار کے در پر کبھی دستک نہیں دیتے
اللہ کے بندوں کو سہارا ہے اسی کا
قرآں میں ثنا خواں ہیں فرشتے بھی مسلسل
عالم پہ عیاں مرتبہ و جود نبی کا
محتاج کسی غیر کے ہو سکتے نہیں ہم
جب فضل و کرم شاملِ جاں ہو ہی خدا کا
نعتیہ اشعار
0
29 دسمبر 2022
رباعی
ہمراز ساجد
@sajica
کیوں مجھ کو ڈراتے ہو سمندر کے تلاطم سے
پانی پہ رقم کوئی تحریر نہیں ہوں میں
طوفاں کی ہواؤں سے جو بجھ جائے سرِ ساحل
وہ شمعِ زبوں، وہ شبِ بے پیر نہیں ہوں میں
آزاد ہے فطرت مری ہر دام و قفص سے
جو پاؤں جکڑ لے، وہ زنجیر نہیں ہوں میں
کیوں مجھ کو ڈراتے ہو سمندر کے طلاطم سے
0
28 دسمبر 2022
رباعی
ہمراز ساجد
@sajica
کیا نارِ جہنم سے رکھا تم نے ہے یارانہ؟
ہر روز تراشتے ہو اک جھوٹ کا افسانہ!
اصحابِ پیمبرؐ تو ستاروں کے مماثل ہیں
ان نفوسِ مقدس کا ہر اہلِ یقیں دیوانہ
حق بات کو جھٹلا کر باطل کی طرف جانا
زیبا نہیں بنتا ہے یہ شیوۂ رندانہ
مرزا جی
0
1
7
28 دسمبر 2022
رباعی
ہمراز ساجد
@sajica
حاضر وہ یہاں بھی ہے اور اس کے نشاں وہاں بھی
گو آنکھ سے اوجھل ہے مگر ہے وہ عیاں بھی
رفعت میں ہے وہ خالقِ افلاک و معلیٰ
ہو پاس رگِ جاں کے، وہ دل کا ہے اماں بھی
پوشیدہ نہیں اس سے کوئی رازِ جہاں کا
سنتا ہے صدائیں وہ رہے کوئی جہاں بھی
حمد
0
معلومات