| خدا ہے نگہباں، رکھو حوصلہ |
| وہی غم کا درماں، رکھو حوصلہ |
| بھنور میں اگر ناؤ ڈولے تو کیا |
| ٹلے گا یہ طوفاں، رکھو حوصلہ |
| اگر آندھیوں نے اجاڑا چمن |
| کھلے گا گلستاں، رکھو حوصلہ |
| کڑی دھوپ ہو، پاؤں میں آبلے |
| اٹھے ابرِ باراں، رکھو حوصلہ |
| نہ آنسو بہاؤ، نہ ہو دل ملول |
| خوشی ہوگی مہماں، رکھو حوصلہ |
| اگر رات گہری ہے، کیا غم ہے دوست |
| سحر ہوگی تاباں، رکھو حوصلہ |
| اگر چھوڑ دیں ساتھ سب ہم نشیں |
| وہ سنتا ہے ارماں، رکھو حوصلہ |
| جواں عزم ہو، ہوں قدم بھی جمے |
| جہاں ہوگا حیراں، رکھو حوصلہ |
| وفا میں جو مٹتے ہیں، مٹتے نہیں |
| رہیں گے نمایاں، رکھو حوصلہ |
| چلو سچ کی راہوں پہ ہمرازؔ تم |
| ہے منزل بھی آساں، رکھو حوصلہ |
معلومات