خدا ہے نگہباں، رکھو حوصلہ
وہی غم کا درماں، رکھو حوصلہ
بھنور میں اگر ناؤ ڈولے تو کیا
ٹلے گا یہ طوفاں، رکھو حوصلہ
اگر آندھیوں نے اجاڑا چمن
کھلے گا گلستاں، رکھو حوصلہ
کڑی دھوپ ہو، پاؤں میں آبلے
اٹھے ابرِ باراں، رکھو حوصلہ
نہ آنسو بہاؤ، نہ ہو دل ملول
خوشی ہوگی مہماں، رکھو حوصلہ
اگر رات گہری ہے، کیا غم ہے دوست
سحر ہوگی تاباں، رکھو حوصلہ
اگر چھوڑ دیں ساتھ سب ہم نشیں
وہ سنتا ہے ارماں، رکھو حوصلہ
جواں عزم ہو، ہوں قدم بھی جمے
جہاں ہوگا حیراں، رکھو حوصلہ
وفا میں جو مٹتے ہیں، مٹتے نہیں
رہیں گے نمایاں، رکھو حوصلہ
چلو سچ کی راہوں پہ ہمرازؔ تم
ہے منزل بھی آساں، رکھو حوصلہ

0
2