اپنے خواب مجھے دے دو
دل بے تاب مجھے دے دو
دیکھو نہ اس انداز سے تم
جامِ شراب مجھے دے دو
خوشیاں ساری تم رکھ لو
درد و عذاب مجھے دے دو
تشنہ لبی ہے صحرا میں
عکسِ سراب مجھے دے دو
بکھرے ہیں جو راہوں میں
پھول گلاب مجھے دے دو
پڑھ لوں دل کی حالت میں
کھلی کتاب مجھے دے دو
پوچھ رہا ہے دل ہمراز
کوئی جواب مجھے دے دو

0