| ہمارے حالِ زبوں سے غافل، نہ پھیرو آنکھیں، بنا کے باتیں |
| فراق کی اب سہی نہ جائیں، ستم شعار و اداس راتیں |
| کبھی تو آؤ کہ چین پائے، رکے یہ طوفانِ درد و فرقت |
| الٹ گئی ہیں فراقِ فرقت میں دل کے ارمان کی بساطیں |
| طویل اتنی شبِ جدائی، کہ جیسے صدیاں سمٹ گئی ہوں |
| خوشی کی حسرت میں ڈھل رہی ہیں، کٹھن، اذیت بھری حیاتیں |
| تمہاری راہوں میں خاک ہو کر، فنا کی سرحد پہ جا کھڑے ہیں |
| یہی وفا کی ملی سزا ہے، یہی تھیں الفت کی کل بساطیں |
| لکھی ہیں ہمرازؔ خونِ دل سے، ترے فدائی نے سب یہ باتیں |
| ستم کے ماروں پہ کٹ نہ پائیں، فراق و فرقت کی کالی راتیں |
معلومات