کیوں مجھ کو ڈراتے ہو سمندر کے تلاطم سے
پانی پہ رقم کوئی تحریر نہیں ہوں میں
طوفاں کی ہواؤں سے جو بجھ جائے سرِ ساحل
وہ شمعِ زبوں، وہ شبِ بے پیر نہیں ہوں میں
آزاد ہے فطرت مری ہر دام و قفص سے
جو پاؤں جکڑ لے، وہ زنجیر نہیں ہوں میں
سجدہ نہ کروں گا کبھی باطل کے صنم کو
جو ٹوٹ کے رہ جائے، وہ تصویر نہیں ہوں میں
سینے میں دہکتا ہے مرے شعلۂ ایماں
ابنِ ستم و کفر کی جاگیر نہیں ہوں میں
خود اپنے ہی بازو سے بدل دوں گا زمانے
محتاجِ شکوہِ خطِ تقدیر نہیں ہوں میں
کہہ دے یہ ستم گر سے ذرا اٹھ کے اب ہمراز
جو مٹ کے فنا ہو، وہ صدا گیر نہیں ہوں میں

0