آج اس کا تخت بھی اور تاج بھی ہے پاش پاش
ہو گیا دنیا پہ یوں اس بت کدے کا بھید فاش
بادشاہت کے صنم خانے کا یہ دستور ہے
آپ ہی معبود گھڑتا ہے یہاں کا بت تراش
کل جو تھا معبود، وہ ہے آج ٹھکرایا ہوا
بندگی ان کی ہے سودا، ہے خدائی بھی معاش
بادشاہی کا لبادہ اب ہے جمہوری مگر
ہے وہی چنگیزیت اندر، وہی اس کا قماش
تاج ٹھکرایا ہے اس نے اک پری وش کے لیے
یہ ہوس ہے، عشق کے پیکر میں اک بے جان لاش
عشق وہ ہے جس نے آتش میں بھی کی تسلیمِ رب
عشق وہ ہے جس نے توڑا ہر صنم کا بود و باش
اصل میں تو سلطنت ہے صرف اس کی ذات کی
کن کی اک آواز پر ہستی میں ہے اک ارتعاش
تاجِ کسریٰ بھی گرا، قیصر کا بھی ٹوٹا غرور
ان کے ایوانوں کی اب ہوتی ہے مٹی میں تلاش
وہ گدا جس نے خودی کی سلطنت پائی، وہ شاہ
اس کے دامن پر نہ آئی ذلتوں کی اک خراش
اے مسلماں! کیوں جھکاتا ہے تو ان کے در پہ سر
ہو ترے ایمان کو پھر سے عطا اک انتعاش
پھر کوئی آئے خلیلی ضرب لے کر دہر میں
بت کدے ہوں پھر سے سارے پاش پاش، اے کاش کاش!

0